تازہ ترین

اوکاڑہ یونیورسٹی: فیکلٹی قلت، 29 شعبوں میں داخلے بند، ایچ ای سی آرڈر وی سی کیخلاف چارج شیٹ

ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ سرکاری مراسلہ اوکاڑہ یونیورسٹی کی انتظامی، تعلیمی اور اخلاقی تباہی پر ایک چارج شیٹ بن کر سامنے آ گیا ہے، جس کا براہِ راست اور مکمل ذمہ دار ہراسمنٹ کے الزامات سہنے والے وائس چانسلر اوکاڑہ یونیورسٹی ڈاکٹر سجاد مبین کو قرار دیا جا رہا ہے۔ 18 ستمبر 2024 کو جاری ہونے والے HEC کے خط نمبر 15(59)/HEC/A&A/2017/1005 کے مطابق اوکاڑہ یونیورسٹی کو محض 30 ستمبر 2025 تک محدود مدت کے لیے صرف چند انڈرگریجویٹ پروگرامز میں این او سی دیا گیا جبکہ درحقیقت یہ این او سی نہیں بلکہ ایک وارننگ نوٹس ہے جو اس ادارے کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔ 29 شعبے لیکن ایک بھی قابلِ اعتماد فیکلٹی نہیں!HEC کی فزیکل انسپکشن اور ایکریڈیٹیشن کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اوکاڑہ یونیورسٹی کے 29 سے زائد ڈیپارٹمنٹس میں فیکلٹی کی شدید قلت پائی گئی جس کے بعد کمیشن نے واضح حکم دیا کہ ان شعبہ جات میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر مزید داخلے فوری طور پر بند کیے جائیں۔ ان شعبوں میں بائیوکیمسٹری، بائیوانفارمیٹکس، نینو سائنسز، اکنامکس، پولیٹیکل سائنس، سائیکالوجی، پبلک ہیلتھ، شماریات، اردو، اسلامیات، سوشل ورک، کریمنالوجی، ٹورازم، سپیشل ایجوکیشن، پبلک ہیلتھ، لائبریری سائنس، فوڈ سائنس، نیوٹریشن، انوائرنمنٹل سائنسز اور دیگر اہم مضامین شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب ایک دن میں ہوا؟ نہیں!یہ سب اس مسلسل نااہلی، اقربا پروری، جعلی اطمینان اور بدنیتی پر مبنی حکمرانی کا نتیجہ ہے جس کی کمان ڈاکٹر سجاد مبین کے ہاتھ میں رہی۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ جس وائس چانسلر پر خود ہراسمنٹ کے الزامات ہوں اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایک یونیورسٹی کو اخلاقی اور تعلیمی سمت دے گا، ایک سنگین مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ ڈاکٹر سجاد مبین کی ترجیحات فیکلٹی کی بھرتی، تعلیمی معیار یا طلبہ کے مستقبل کے بجائے اپنے اقتدار کے تحفظ، خوشامدی ٹولے اور ذاتی بچاؤ تک محدود رہی۔ HEC کا یہ مراسلہ دراصل ڈاکٹر سجاد مبین کے منہ پر ایک سرکاری طمانچہ ہے، جو واضح طور پر بتا رہا ہے کہ اوکاڑہ یونیورسٹی میں نہ مکمل فیکلٹی موجود ہے، نہ تعلیمی منصوبہ بندی، نہ مستقبل کا کوئی روڈ میپ، اس کے باوجود وائس چانسلر اپنی کرسی سے چمٹے رہے، جبکہ ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگتا رہا۔ یہ بھی ایک کھلا سوال ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور متعلقہ حکام نے ڈاکٹر سجاد مبین جیسے متنازع، ناکام اور الزامات زدہ وائس چانسلر کو کیوں اور کس کے کہنے پر برداشت کر رکھا ہے؟ اوکاڑہ یونیورسٹی کی موجودہ حالت کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ سوچی سمجھی غفلت، نااہلی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شاخسانہ ہے، جس کا پورا ملبہ وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین پر ہی آتا ہے۔ اگر فوری طور پر وائس چانسلر کو عہدے سے نہ ہٹایا گیا، شفاف انکوائری نہ ہوئی اور یونیورسٹی کو پروفیشنل قیادت نہ دی گئی تو یہ صرف تعلیمی ناکامی نہیں بلکہ ریاستی جرم تصور کیا جائے گا، جس کی قیمت اوکاڑہ کے طلبہ، اساتذہ اور پورا تعلیمی نظام ادا کرے گا۔ اس خبر کو موقف کے لیے وائس چانسلر اوکاڑہ یونیورسٹی ڈاکٹر سجاد مبین میو کے پرسنل سیکرٹری شرجیل احمد کو موقف کے لیے بھیجا گیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں