ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی ادارےجو علم، تحقیق اور اخلاقی اقدار کی علامت سمجھے جاتے ہیں،آج خود شدید اخلاقی، انتظامی اور قانونی بحران کی زد میں دکھائی دے رہے ہیں۔ جامعات میں وائس چانسلر جیسے نہایت بااختیار اور فیصلہ کن عہدوں پر بیٹھے افرادکی خلاف غیر اخلاقی حرکات، اختیارات کے ناجائز استعمال اور خواتین اساتذہ کو ہراساں کرنے جیسے سنگین الزامات سامنے آنا پورے نظامِ اعلیٰ تعلیم کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔ ایسا ہی ایک سنجیدہ اور ہنگامہ خیز معاملہ یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں سامنے آیا ہے، جہاں اسسٹنٹ پروفیسر فزکس (ٹینور ٹریک سسٹم) ڈاکٹر شہلا ہنی نے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کے خلاف باقاعدہ قانونی شکایت دائر کر رکھی ہے۔ یہ شکایت تحفظِ خواتین از ہراسانی ایکٹ 2010 کے تحت دائر کی گئی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وائس چانسلر نے نہ صرف ہراسانی اور غیر اخلاقی طرزِ عمل اختیار کیا بلکہ اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دھمکی آمیز رویہ اپناتے ہوئے سخت ماحول پیدا کیا اور شکایت سامنے آنے کے بعد انتقامی کارروائیاں بھی کیں۔ شکایت کے مطابق ایک خاتون استاد کے لیے یونیورسٹی میں کام کا ماحول اس حد تک مشکل بنا دیا گیا ہےکہ پیشہ ورانہ وقار اور تحفظ دونوں خطرے میں پڑ گئے۔ پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین اس وقت یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے ریگولر وائس چانسلر ہیں جبکہ بیک وقت گرو نانک یونیورسٹی کے عارضی وائس چانسلر بھی تعینات ہیں، اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں آرکیٹیکچر انجینئرنگ کے پروفیسر بھی رہ چکے ہیں۔ تعلیمی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ ایک ہی فرد کو متعدد حساس اور طاقتور عہدوں پر بٹھانا انتظامی بدانتظامی اور مفادات کے واضح ٹکراؤ کے مترادف ہےمگر اس کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے اس پہلو کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ دائر کی گئی شکایت میں یہ بھی الزام ہے کہ وائس چانسلر نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے شکایت کنندہ کے خلاف مختلف انتظامی ہتھکنڈے اپنائے، پیشہ ورانہ ترقی میں رکاوٹیں ڈالیں اور ٹینور ٹریک سسٹم کے تحت پروموشن کے قواعد کو جان بوجھ کر پامال کیا۔ شکایت کے مطابق ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کیے گئےجبکہ میرٹ اور قواعد کو ثانوی حیثیت دے دی گئی۔ مزید یہ کہ پوسٹ ڈاکٹریٹ چھٹی کے دوران بھی ایسے اقدامات کیے گئے جو یونیورسٹی قوانین اور سرکاری سروس رولز کے منافی قرار دیے جا رہے ہیں۔ شکایت میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے سرکاری فورمز اور اجلاسوں کو ذاتی دفاع اور شکایت کنندہ کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کیا گیا جو ادارہ جاتی شفافیت اور گورننس کے اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک الزام یہ ہے کہ ایک ایسی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی قانونی حیثیت مشکوک بتائی جا رہی ہے اور جس میں مفادات کے ٹکراؤ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ انکوائری انصاف فراہم کرنے کے بجائے معاملہ دبانے کی کوشش کے مترادف ہو سکتی ہے۔ اس پورے معاملے نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور وائس چانسلرز کی تقرری کرنے والی سرچ کمیٹیوں کے کردار کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ تعلیمی و قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب میرٹ، کردار اور انتظامی اہلیت کے بجائے سفارش اور سیاسی بنیادوں پر تقرریاں ہوں گی تو پھر ایسے ہی سکینڈلز جنم لیں گے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا HED پنجاب خواتین کے تحفظ سے متعلق قوانین پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کروانے میں سنجیدہ ہے یا طاقتور عہدے دار احتساب سے بالاتر ہو چکے ہیں۔اس کیس کے بعد یونیورسٹی میں خواتین اساتذہ میں شدید عدم تحفظ اور خوف کی فضا پائی جاتی ہےجہاں شکایت کرنا کیریئر کے لیے خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال پورے صوبے کی جامعات کے لیے ایک خطرناک مثال بنتی جا رہی ہےکیونکہ اگر وائس چانسلر جیسے طاقتور عہدوں پر بیٹھے افراد کے خلاف شکایات کو دبایا گیا تو میرٹ، قانون اور شفافیت محض کاغذی نعرے بن کر رہ جائیں گے اور جامعات علم کے مراکز کے بجائے طاقت کے قلعوں میں تبدیل ہو جائیں گی۔ تعلیمی، قانونی اور سول سوسائٹی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس شکایت کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں، تحقیقات مکمل ہونے تک وائس چانسلر کو عہدے سے الگ کیا جائے اور وائس چانسلرز کی تقرری کے پورے نظام سمیت سرچ کمیٹیوں اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے کردار کا بھی تعین کیا جائے کیونکہ اگر اب بھی احتساب نہ ہوا تو اعلیٰ تعلیم کا پورا نظام عوام کے اعتماد سے محروم ہو کر رہ جائے گا۔ اس بارے میں وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین کے پرسنل سیکرٹری شرجیل احمد کا کہنا تھا کہ کوئی شخص جو بیرونِ ملک رہائش پذیر ہو، اسے پاکستان میں رہنے والا شخص کس طرح ہراساں کر سکتا ہے؟ دوم یہ کہ اسے ہراساں کیسے کیا گیا؟ کیا اس کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت موجود ہے؟ یہ ایک مکمل طور پر جعلی شکایت ہے اور ہم اس کا جواب متعلقہ فورمز میں پہلے ہی جمع کرا چکے ہیں۔ یہ تمام شکایات بے بنیاد ہیں۔ میں حلفاً آپ کو یہ بات بتا رہا ہوں۔ ہمارا قانونی مشیر اس معاملے کو پہلے ہی دیکھ رہا ہے۔ میں اپنے قانونی مشیر سے کہوں گا کہ وہ آپ سے رابطہ کرے اور معاملے کی وضاحت کرے۔
ڈاکٹر شہلا ہنی 8 ماہ گزرنے کے باوجود انصاف کی دہلیز تک نہ پہنچ سکی
ملتان (سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں مبینہ ہراسمنٹ کیس ایک انسانی المیے کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں متاثرہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہلا ہنی کی آواز آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود انصاف کی دہلیز تک نہیں پہنچ سکی۔ روزنامہ قوم سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شہلا ہنی نے انتہائی افسردہ لہجے میں بتایا کہ وائس چانسلر کے خلاف شکایات درج کروانے کے بعد ان کے لیے جینا دوبھر کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شہلا ہنی کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین نے مبینہ طور پر اپنی انتظامی طاقت استعمال کرتے ہوئے پوری یونیورسٹی کے افسران، اساتذہ اور ملازمین کو ان کے خلاف کر دیاجس کے نتیجے میں انہیں شدید ذہنی دباؤ، تنہائی اور پیشہ ورانہ ذلت کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود ان کی تنخواہ روک لی گئی ہے جس سے نہ صرف ان کی معاشی حالت متاثر ہوئی بلکہ ان کی عزتِ نفس کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں دنیا کے مایہ ناز تعلیمی ادارے امپیریل کالج لندن میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لیے داخلہ ملا، جو کسی بھی پاکستانی استاد کے لیے فخر کا مقام ہونا چاہیے تھا، مگر اس کامیابی پر انہیں حوصلہ افزائی دینے کے بجائے مزید مایوسی اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈاکٹر شہلا ہنی کے مطابق یہ رویہ نہ صرف ذاتی عناد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ خواتین اساتذہ کے ساتھ ادارہ جاتی ناانصافی کی ایک دردناک مثال بھی ہے۔ ڈاکٹر شہلا ہنی نے بتایا کہ وہ اس وقت شدید اذیت اور ذہنی کرب میں مبتلا ہیں اور ان کا واحد مطالبہ انصاف، تحفظ اور عزت کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینے کا حق ہے۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام فوری نوٹس لیں، تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائیں اور ہراسمنٹ کیس کی شفاف، غیر جانبدار اور بروقت تحقیقات مکمل کی جائیں تاکہ ایک باصلاحیت خاتون استاد کو مزید ذہنی اور پیشہ ورانہ تباہی سے بچایا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق اگر اس معاملے میں تاخیر اور خاموشی برقرار رہی تو یہ نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے تعلیمی نظام اور خواتین کے تحفظ پر ایک گہرا سوالیہ نشان بن جائے گا۔








