ملتان (سٹاف رپورٹر) اوکاڑہ کی ایک یونیورسٹی اور ایک سرکاری کالج اوکاڑہ کے بورڈ آف گورنرز میں خاتون نشست کے گرد گھومتا ایک نیا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ قانونی ماہرین کو بھی چونکا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک مرد وائس چانسلر کسی ایسی نشست پر خود کو نامزد کر سکتے ہیں جو باقاعدہ طور پر ایک خاتون رکن کے لیے مختص ہو؟ دستاویزات کے مطابق گورنرپنجاب نے بطور چیئرمین بورڈ آف گورنرز، پنجاب گورنمنٹ ایجوکیشنل اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس 1960 کے تحت سرکاری کالج اوکاڑہ کے بورڈ کی تشکیلِ نو کی منظوری دی جس میں تین سالہ مدت کے لیے ارکان کی نامزدگیاں شامل تھیں۔ اسی سلسلے میں اوکاڑہ کی ایک یونیورسٹی کو ایک خاتون ممبر کی نامزدگی کے لیے خط لکھا گیا، جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک خاتون ٹیچر کا نام ارسال کیا۔ نامزدگی کی باضابطہ منظوری کے بعد اچانک یوٹرن سامنے آیا۔ 7 نومبر 2025 کو رجسٹرار آفس سے جاری مراسلہ (نمبر UO/R/2025/5173) ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ کو ارسال کیا گیاجس میں کہا گیا کہ وائس چانسلر کی منظوری سے اس خاتون ٹیچر کی نامزدگی واپس لی جا رہی ہے، اور اس کے بجائے اوکاڑہ کی اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر بورڈ آف گورنرز کا رکن ہوں گے۔ یہاں کئی بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں۔ کیا تین سال کے لیے گورنر پنجاب کی منظوری سے کی گئی نامزدگی کو یکطرفہ طور پر واپس لینا وائس چانسلر کے اختیار میں ہے؟ اگر نشست خاتون ممبر کے لیے مختص تھی تو اس پر مرد وائس چانسلر کی نامزدگی کس قانونی جواز کے تحت کی گئی؟ کیا ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ کو براہِ راست خط لکھ کر گورنر کی منظوری میں “جزوی ترمیم” کرنا آئینی و انتظامی طور پر درست عمل ہے؟ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’نامزدگی‘‘ محض ایک تجویز نہیں بلکہ مجاز اتھارٹی کی باضابطہ منظوری کے بعد تین سال کے لیے مؤثر فیصلہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کی منسوخی کا اختیار بھی اسی اتھارٹی کو حاصل ہوتا ہے جس نے منظوری دی ہو۔ اگر واقعی نشست خواتین کی نمائندگی کے لیے مخصوص تھی تو اس پر مرد عہدیدار کی خود نامزدگی نہ صرف اخلاقی بلکہ نمائندگی کے اصولوں کے بھی منافی قرار دی جا سکتی ہے۔ اس اچانک تبدیلی کی پسِ پردہ وجوہات بھی انتہائی “ناقابلِ اشاعت” ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر کوئی انتظامی یا قانونی سقم تھا تو اسے باقاعدہ فورم پر اٹھایا کیوں نہ گیا؟ اور اگر نہیں تھا تو ایک منظور شدہ خاتون نمائندہ کو ہٹا کر خود کو نامزد کرنا کیا مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے زمرے میں نہیں آتا۔ تعلیمی و سماجی حلقوں میں اس پیش رفت کو خواتین کی نمائندگی کے حق پر کاری ضرب قرار دیا جا رہا ہے اور اگر یہ روایت قائم ہو گئی تو مستقبل میں بھی مخصوص نشستوں کی روح کو محض ایک خط کے ذریعے تبدیل کیا جا سکے گا، جو ادارہ جاتی خودمختاری اور قانونی تقاضوں پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا Governor of the Punjab بطور چیئرمین بورڈ آف گورنرز اس معاملے کا نوٹس لیں گے یا نہیں۔ کیا خاتون ممبر کی تین سالہ نامزدگی رہے گی یا نہیں؟ یا یہ معاملہ بھی فائلوں کی نذر ہو جائے گا؟ یہ تنازعہ اوکاڑہ کی تعلیمی فضا میں ایک ہلچل پیدا کر چکا ہے—اور جواب طلب سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہیں۔







