آج کی تاریخ

اوچشریف: پولیس گردی، 4 خواتین پر وحشیانہ تشدد، جھوٹے دہشتگردی مقدمہ میں 18 روز سے قید

بہاولپور ( کرائم سیل)اوچشریف پولیس گردی کی انتہا، نہم جماعت کی طالبہ سمیت ایک ہی خاندان کی چار خواتین 18 دن سے دہشت گردی کے الزام میں جیل میں قید ۔سول سوسائٹی ،وکلاء اور انسانی حقوق سمیت خواتین کے حقوق کے تحفظ کی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود بہاولپور پولیس کی روایتی بے حسی پر متاثرہ خاندان کی وزیر اعلیٰ کمپلینٹ سیل پر داد رسی کے لیے دی جانے والی درخواست پر ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ بھی اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لیے سرگرم ہوگئے گزشتہ روز درخواست دہندہ محمد شفیق کو انکوائری کے لئے بلا کر کئی گھنٹوں تک انتظار کروانے کے بعد ایس ایچ او اور دوسری پارٹی کے نہ آنے کا کہہ کر متاثرین کو طفل تسلیوں کے بعد آج کی پیشی کے دوبارہ پابند کروا دیا۔تفصیلات کے مطابق اوچ شریف میں پولیس گردی کے ہولناک واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ نہم جماعت کی طالبہ سمیت ایک ہی خاندان کی چار خواتین کو پولیس نے مبینہ طور پر انسانیت سوز تشدد کے بعد جھوٹے دہشت گردی کے مقدمے میں جیل بھجوا دیا، خواتین گزشتہ 18 دن سے قید میں ہیں۔مسلسل احتجاج اور افسران کی بے حسی پر بالآخر متاثرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے کمپلینٹ سیل پر دی جانے والی درخوات کے بعد گزشتہ روز متاثرہ خاندان کو انکوائری کے لیے ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ کے دفتر بلایا گیا۔لیکن چشم کشا حقیقت یہ ہے کہ متاثرین کو ساڑھے پانچ گھنٹے انتظار کے بعد بھی ڈی ایس پی نے سنجیدگی سے نہ سنا۔ پہلے بہانہ بنایا گیا کہ “دوسری پارٹی موجود نہیں”، پھر اگلے دن دوبارہ طلب کر کے معاملہ ٹال دیا گیا۔متاثرین نے انکوائری آفیسر کے سامنے دہائی دی کہ:10 اگست کی رات پولیس نے خواجہ مرید حسین سے گٹھ جوڑ کر کے جعلی اطلاع پر چھاپہ مارا۔پولیس نے لیڈیز پولیس کے بغیر گھر پر دھاوا بولا، خواتین کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا، تشدد کیا اور قیمتی سامان و نقدی لوٹ لی۔ایک نہم کی طالبہ سمیت چار خواتین کو دہشت گرد قرار دے کر جیل بھیج دیا گیا۔محمد شفیق، جو مقدمے کا مرکزی ملزم نامزد ہے، نے انکوائری آفیسر کو بتایا کہ وقوعہ کے دن وہ کراچی میں موجود تھا، جس کا سرکاری ریکارڈ بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود پولیس نے جھوٹی کہانی گھڑی کہ اس نے اہلکار کو ڈانگ ماری۔ مزید انکشاف ہوا کہ جس کانسٹیبل کے دانت ٹوٹنے کا دعویٰ کیا گیا، وہ حقیقت میں 19 جنوری کے ایک حادثے میں زخمی ہوا تھا، لیکن اس ریکارڈ کو بھی سامنے نہیں لایا جا رہا۔متاثرہ خاندان نے انکوائری آفیسر سے سوال اٹھایا کہ: “ہماری خواتین پر ظلم کرنے والے ایس ایچ او سجاد سندھو اور پولیس اہلکاروں کو انکوائری میں کیوں طلب نہیں کیا گیا؟”انکوائری آفیسر نے متاثرین کو صرف یہ کہہ کر تسلی دینے کی کوشش کی کہ “فکر نہ کریں، خواتین کی ضمانتیں جلد ہو جائیں گی”، لیکن متاثرہ خاندان پھٹ پڑا کہ ہمارے گھر لوٹ لیے گئے، خواتین پر تشدد ہوا، ہمیں ڈی پی او تک سے ملنے نہیں دیا گیا — اب کیسے تسلی کر لیں؟”ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ نے معاملہ مزید طول دیتے ہوئے اگلے دن متاثرہ خاندان، تفتیشی افسر اور خواجہ مرید حسین کو ریکارڈ سمیت دوبارہ طلب کیا ہے۔اوچ شریف کے اس واقعے نے شہریوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین پر تشدد کرنے والے پولیس افسران کو فوری معطل کر کے سخت کارروائی کی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں