ملتان(سپیشل رپورٹر)انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع گلیو بنانے والی فیکٹری میں خیرات کیلئے آنے والی خواتین پر کیمیکل پھینکنے والا اصل ملزم موقع سے فوری طور پر فرار ہو گیا تا ہم مظفرآباد پولیس نے فیکٹری ملازمین کو حراست میں لے لیا۔ فیکٹری مالک طارق قریشی جب اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر اپنے ملازمین کو چھڑانے تھا نےپہنچاتو پولیس نے انہی کو حراست میں لے کر دیگر ملازمین کو گھر جانے کی اجازت دے دی۔ جن دو خواتین کو زخمی اور بے ہوش ہونے پر نشتر منتقل کر دیا گیا تھا ان کے نام ثمینہ بی بی اور اریبا تھے جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا جنہوں نے گزشتہ روز بیان دے دیا کہ اس واقعہ میں فیکٹری مالکان بے گناہ ہیں اور وہ موقع پر بھی موجود نہ تھے جبکہ وہ کسی کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے ہیں جس پر معاملہ صلح کی طرف چلا گیا۔ تاہم مظفرآباد پولیس نے خوف و ہراس اور دہشت پھیلانے کے الزام کو یکسر نظر انداز کر دیا اور پولیس نے کسی کے بھی خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔اس بارے میں پولیس کا موقف ہے کہ انہیں کوئی درخواست دہندہ ہی نہیں ملا جو اس وقو عہ کے بارے میں درخواست دیتا۔ یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ گزشتہ سےپیوستہ روز پولیس اور ریسکیو 1122کا عملہ بھی موقع پر تھا مگر انہوں نے اس وقوعہ کے بارے میں افسران کو کیا بریفنگ دی اور کیا رپورٹ مرتب کی یہ منظر عام پر نہیں آ سکا۔







