ملتان (جوائنٹ ایڈٹر ڈیسک) ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان ریجن بشارت نبی نے ملتان میں انڈسٹریل اسٹیٹ طالب کینال ہیڈ ڈومری سے قاسم پور کینال تک میٹلڈ روڈ کی تعمیر کے منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں پر نوٹس لیتے ہوئے محکمہ کی ٹیکنیکل برانچ کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ یہ منصوبہ گزشتہ سال مکمل ہوا تھا لیکن اس پر غیر معیاری تعمیراتی مواد کے استعمال اور دیگر بے قاعدگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد شکایات بڑھ گئی ہیں۔یہ شکایات شہری خلیل عباس کی جانب سے سامنے آئیں، جنہوں نے الزام لگایا کہ تعمیر میں ملبے کو مٹی کی جگہ استعمال کیا گیا، سڑک کی لیولنگ خراب ہےاور منظور شدہ مواد کے بجائے غیر معیاری پتھر استعمال کئے گئے۔ ان الزامات نے نہ صرف منصوبے کے معیار بلکہ سرکاری فنڈز کے ممکنہ غلط استعمال پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بشارت نبی نے کہا ہے کہ معاملے کی شفاف اور تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں اور کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔شہری خلیل عباس نے اپنے تحریری شکایت میں وزیر اعلیٰ پنجاب، ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن، اور دیگر اعلیٰ حکام کو بتایا کہ سابق ایس ڈی او ملتان مسرور شاہ(حالیہ تعینات ایس ڈی اور ہائی ویز خانیوال) کے دور میں روڈ کی تعمیر میں ملبہ استعمال کیا گیا، مٹی کی لیئرنگ اور کمپیکشن نہیں کی گئی،سڑک کے کنارے خراب اور ٹوٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مٹی کی خریداری کے نام پر لاکھوں روپے کی اضافی ادائیگیاں کی گئیں جبکہ مٹی استعمال ہی نہیں کی گئی۔اس کے علاوہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے قریب ایک نجی کالونی کو سرکاری خرچ پر سڑک فراہم کی گئی، اور اس کام کو “ویریئیشن آئٹمز” کے تحت بل پاس کروا کر قانونی بنایا گیا۔موجودہ ایکسین غلام نبی نے کہا کہ وہ معاملے کی شفاف تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔ ان کا کہناتھا۔ہم ان خدشات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی پائی گئی تو اس کا فوری تدارک کیا جائے۔ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بشارت نبی نے کہا کہ ٹیکنیکل برانچ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پراجیکٹ کا معائنہ کرے اور تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ “اگر کسی بھی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی بھی کی جائے گی، انہوں نے کہاعوامی حلقوں نے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیونٹی ممبران اور سماجی کارکنوں نے درخواست کی ہے کہ سڑک کی مکمل جانچ کی جائے، خامیاں سامنے لائی جائیں، اور کسی بھی غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔یہ معاملہ خطے میں دیگر سرکاری منصوبوں کی نگرانی اور معیار کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اگر اس کیس کی شفاف تحقیقات کی گئیں تو یہ مستقبل میں سرکاری منصوبوں کی بہتر مانیٹرنگ اور شفافیت کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی ٹیکنیکل برانچ نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں رپورٹ پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ بے ضابطگیوں کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور منصوبوں کی نگرانی بہتر بنانے کے لیے سفارشات پیش کی جائیں گی۔






