انقلاب کے بعد ہجوم

انقلاب گولی سے نہیں مرتا، مگر ہجوم کے ہاتھوں دفن ضرور ہو جاتا ہے۔
بنگلہ دیش ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں امید اور خوف ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے ہیں۔ ڈھاکا میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کی بیرونِ ملک علاج کے دوران وفات نے اس نازک ریاست کو تشدد کے نئے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ یہ محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ اُس تحریک کے زخموں کا دوبارہ ہرا ہو جانا ہے جس نے گزشتہ برس شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔ اس سانحے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج نے ہنگامہ آرائی اور آتش زنی کی صورت اختیار کی، اور یہ مناظر اس سوال کو تیز تر کر گئے کہ کیا بنگلہ دیش واقعی آمریت کے بعد جمہوری استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے یا ہجوم کی سیاست کے رحم و کرم پر آ چکا ہے۔
شریف عثمان ہادی ایک سرگرم طالب علم رہنما، سیاسی پلیٹ فارم کے ترجمان اور آئندہ انتخابات کے امیدوار تھے۔ ان کی شناخت محض سیاسی نہیں بلکہ علامتی بھی تھی، کیونکہ وہ اُس بغاوت کا چہرہ سمجھے جاتے تھے جس نے ریاستی جبر کے خلاف عوامی ردِعمل کو منظم کیا۔ ان کی موت کی خبر پھیلتے ہی احتجاج کا لاوا پھوٹ پڑا، مگر افسوس کہ یہ احتجاج جلد ہی بے قابو ہجوم میں بدل گیا۔ آتش زنی، توڑ پھوڑ اور اداروں پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غصہ جب نظم و ضبط سے آزاد ہو جائے تو انصاف کے مطالبے کو بھی مجروح کر دیتا ہے۔
تشدد کے دوران ملک کے دو بڑے اخبارات کے دفاتر پر حملے ہوئے، اور صحافیوں کو جان بچانے کے لیے حفاظتی اہلکاروں کی مدد لینی پڑی۔ یہ واقعہ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آزادیِ اظہار اور آزاد صحافت وہ ستون ہیں جن پر جمہوریت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر احتجاج کی آڑ میں ان ستونوں کو نشانہ بنایا جائے تو نتیجہ آمریت کے خلاف جدوجہد کی نفی کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ ہجوم جب خبر کے کاغذ جلا دے تو سچ راکھ ہو جاتا ہے، اور راکھ سے جمہوریت نہیں اُگتی۔
ہادی کے جنازے میں لاکھوں لوگوں کی شرکت نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ عوام کے دلوں میں غم اور غصہ کس قدر گہرا ہے۔ عبوری قیادت کے سربراہ محمد یونس کی موجودگی نے ریاستی سطح پر سانحے کی سنگینی کا اعتراف کیا، مگر محض شرکت کافی نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ عبوری حکومت کس طرح انصاف کو یقینی بناتی ہے، تشدد کو روکتی ہے اور سیاسی عمل کو محفوظ راستے پر رکھتی ہے۔ اگر قاتل کی گرفتاری اور سزا میں تاخیر ہوئی، یا تحقیقات شفاف نہ ہوئیں، تو بے یقینی مزید بڑھے گی اور ہجوم کی سیاست کو ایندھن ملتا رہے گا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ شیخ حسینہ واجد کا دور بنگلہ دیش کی تاریخ کے تاریک ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ ایک منتخب رہنما سے سخت گیر حکمران تک کا سفر ریاستی جبر، سیاسی مخالفین کی سرکوبی اور شہری آزادیوں کی پامالی سے بھرا ہوا تھا۔ گزشتہ برس کی عوامی بغاوت اسی جبر کا ردِعمل تھی۔ مگر آمریت کے خاتمے کے بعد آزادی خود بخود محفوظ نہیں ہو جاتی۔ آزادی کو قانون، اداروں اور سیاسی بالغ نظری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان عناصر کی جگہ ہجوم لے لے تو آمریت کے جانے کے بعد انارکی آ جاتی ہے۔
ہادی کے قتل کو بعض حلقوں نے بیرونی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت کی علامت قرار دیا ہے، اور قاتل کے پڑوسی ملک فرار ہونے کی اطلاعات نے جذبات کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ مگر ایسے نازک مرحلے پر بیانیے کی شدت کو قانون کے تابع رکھنا لازمی ہے۔ جذباتی نعرے اگر تشدد کو جواز فراہم کریں تو وہ انصاف کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ذمہ دار سیاست کا تقاضا ہے کہ احتجاج آئینی حدود میں رہے، اور الزام تراشی کے بجائے شواہد اور قانونی کارروائی کو ترجیح دی جائے۔
انتخابات چند ماہ دور ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہے جب عبوری انتظامیہ کی اہلیت کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔ شفاف اور پرامن انتخابات ہی وہ راستہ ہیں جو عوامی قربانیوں کو معنی دیتے ہیں۔ اگر انتخابی ماحول تشدد، خوف اور ہجوم کے دباؤ میں آ گیا تو نتیجہ نہ صرف متنازع ہوگا بلکہ ریاستی استحکام کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ اس لیے لازم ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلاف کے باوجود جمہوری اصولوں کی پابندی کریں، اور ریاست شہری آزادیوں کے ساتھ ساتھ امن عامہ کی حفاظت بھی یقینی بنائے۔
ذرائع ابلاغ اور شہری سماج کو خصوصی تحفظ درکار ہے۔ احتجاج کے دوران ان پر حملے دراصل سماج کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کے مترادف ہیں۔ اختلافِ رائے کو دبانے کی یہ کوششیں مستقبل کی سیاست کے لیے زہر ہیں۔ عبوری حکومت کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ تشدد کو ہوا دینے والے عناصر، خواہ کسی بھی نظریے یا جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، قانون کی گرفت سے نہیں بچیں گے۔ یہی پیغام ہجوم کو منتشر اور سیاست کو مہذب بنا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کو اب نیا راستہ اختیار کرنا ہے۔ یہ راستہ نہ تو ماضی کی آمریت کی طرف جاتا ہے اور نہ ہی ہجوم کی حکمرانی کی طرف۔ یہ راستہ آئین، قانون اور عوامی شرکت کے ذریعے مکمل جمہوریت کی طرف جاتا ہے۔ ہادی کی موت نے دکھ اور غصہ ضرور پیدا کیا ہے، مگر اسی دکھ کو انصاف اور اصلاح میں ڈھالنا قیادت کی ذمہ داری ہے۔ اگر یہ موقع ضائع ہوا تو عوامی قربانیاں بے معنی ہو جائیں گی اور تاریخ ایک بار پھر یہی سوال دہرائے گی کہ کیا انقلاب کے بعد بھی ہم ہجوم کے اسیر رہے؟
آخرکار، بنگلہ دیش کے لیے یہ لمحہ انتخاب کا ہے: یا تو وہ تشدد کو روک کر قانون کی حکمرانی قائم کرے، یا پھر ہجوم کے شور میں اپنے جمہوری خواب گم کر دے۔ انصاف کی رفتار تیز، شفاف اور غیر جانب دار ہونی چاہیے؛ احتجاج باوقار اور پرامن ہونا چاہیے؛ اور ریاست کو اپنی طاقت شہریوں کے تحفظ کے لیے استعمال کرنی چاہیے، نہ کہ اختلاف کو دبانے کے لیے۔ یہی وہ توازن ہے جو ایک بغاوت کو جمہوریت میں بدلتا ہے، ورنہ انقلاب کے بعد ہجوم ہی حکمران رہ جاتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں