راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کو جنرل ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، اور دیگر 10 ملزمان کی درخواست بریت خارج کر دی۔انسداد دہشتگردی عدالت میں 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جہاں پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے وکیل فیصل چوہدری اور فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے درخواست بریت کے خلاف اپنے دلائل دیے۔ عدالت نے عمران خان، علی امین گنڈاپور، شاہ محمود قریشی، شبلی فراز، شہریار آفریدی، فواد چوہدری، کنول شوذب، اور عمر تنویر بٹ سمیت 12 ملزمان کی درخواست بریت مسترد کر دی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد بریت کی درخواستیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔عدالت نے 4 ملزمان کے دستاویزات نامکمل ہونے کی بنیاد پر بیرون ملک جانے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان ان دنوں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ حالیہ دنوں میں 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اس کیس میں دیگر رہنماؤں پر بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان تحریک انصاف کے کئی اہم عہدیداران شامل ہیں۔قانونی اور سیاسی اثراتعدالت کے اس فیصلے کا تحریک انصاف اور ملزمان کے قانونی معاملات پر گہرا اثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پی ٹی آئی کی قیادت مختلف قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔






