ملتان(سٹاف رپورٹر) نشترہسپتال ملتان میں 26 اکتوبر کو ایڈز میں مبتلا مریض کا ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا گردوں کے مریضوں کے لیے علیحدہ سے مختص مشین پر گردے واش کرانے کے بجائے دیگر مشین پر گردے واش کرنے سے 30سے زائد مریضوں میں ایڈز کے جراثیم پھیل جانے کا خوفناک انکشاف ہوا ہے اور ایک کی موت واقع ہوگئی ہے۔ ہسپتال کے تمام ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف شدید قسم کے خطرے کا شکار ہو گئے ہیں جبکہ سینئر ڈاکٹرز کی طرف سے تمام سٹاف کو اپنے ایچ آئی وی ایڈز ٹیسٹ نجی لیبارٹریوں سے کرانے کا مشورہ دیا گیا ہے کیونکہ اس واقعے کو 15 روز گزر چکے ہیں اور دو ہفتوں میں ایڈز کے اثرات ٹیسٹ میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس ڈائیلسز مشین جس پر ایڈز میں مبتلا مریض کا ڈائیلسز کیا گیا تھا پر ڈائیلسز کرنے سے شاہنواز نامی ایک مریض کی موت بھی واقع ہو چکی ہے ۔نشتر انتظامیہ اس شدید قسم کی نااہلی پر پردہ ڈال رہی ہے اور معاملے کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سانحہ نشتر ہسپتال کے شعبہ امراض گردہ کی نااہلی اور پروٹوکول و پروسیجر پر عمل نہ کرنے سے پیش آیا ہے کیونکہ ایڈز میں مبتلا مریض کی ڈائیلسز مشین علیحدہ ہوتی ہے اور اس پر کسی بھی دوسرے مریض کے گردے واش نہیں کئے جا سکتے اور اسی طرح ہیپاٹائٹس کے مریضوں کیلئے بھی علیحدہ سے ڈائیلسز مشین مختص ہوتی ہے جس پر کسی دوسرے مریض کے گرد ےواش نہیں کئے جاتے اور یہ مشینیں علیحدہ ہی رکھی جاتی ہیں جن کا سٹاف بھی علیحدہ ہوتا ہے اور اس کا ایس او پی اور پروٹوکول کے علاوہ لباس بھی علیحدہ ہی ہوتا ہے۔ نشتر میں ایڈز وارڈز کا عملہ بھی علیحدہ ہی ہوتا ہے اور یہ بھی سخت پابندی ہے کہ ایڈز وارڈ کا عملہ کسی اور مریض کے پاس نہیں جاتا اور نہ ہی ایڈز وارڈ کی صفائی اور کپڑوں کی دھلائی کسی اور جگہ سے کرائی جا سکتی ہے۔ صفائی کا سامان تک علیحدہ ہوتا ہے اور پروٹوکول کے مطابق ایڈز وارڈز کی آئیسولیشن کا سخت خیال رکھا جاتا ہے مگر کرپشن نے نشتر انتظامیہ کو مفلوج کر کے رکھا ہوا ہے اور گزشتہ 10 سالوں سے نشتر میں پیرا میڈیکل سٹاف رشوت اور سفارش کی بنیاد پر بھرتی ہو رہاہے حتیٰ کہ ٹیکنیکل اسامیوں اور لیبارٹریز میں بھی ایسا پیرا میڈیکل سٹاف ڈیوٹی دے رہا ہے جس کے پاس کوئی تجربہ ہی نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ جس شاہنواز نامی مریض کا انتقال ہوا ہے وہ ایڈز کا مریض تھا اور گردے بھی واش کراتا تھا جبکہ وہ نفرالوجی وارڈ میں بھی داخل تھا ۔نشتر انتظامیہ اس پر پردہ پوشی کر رہی ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر کاظم نےاس حوالے سے کہاہےکہ ہر رجسٹر مریض کا 6 ماہ بعد ایڈز اور 3 ماہ بعد ہیپاٹائٹس کاسکریننگ ٹیسٹ کرایا جا تا ہے۔ ممکن ہے کسی مریض نے باہر سے خون لگوایا ہو اور ایڈز کے جراثیم اس میں منتقل ہو گئے ہوں۔چند مریضوں میں ایڈز میں مبتلا ہونے کا علم ہوا ہے ۔مریضوں کے نام وغیرہ نہیں پتہ لیکن ہسپتال انتظامیہ واقعہ ہوا ہے اس کو کنفرم کر رہی ہے۔دریں اثنا ایڈیشنل چیف سیکرٹری سائوتھ پنجاب فواد ہاشم ربانی نےڈائیلسز مشینوں کی خرابی کی شکایت پر نشتر ہسپتال کا اچانک دورہ کیا اور اولڈ اور نیو ڈائلیسز وارڈ کا وزٹ کیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی آمد کی اطلاع پر ہسپتال انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری سائوتھ پنجاب نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے ڈائیل کا سلسلہ جلد شروع کیا جائے اور ہدایت کی کہ ایچ آئی وی میں مبتلا مریضوں کے ڈیٹا کے حوالے سے انکوائری جلد مکمل کی جائے۔






