امریکی فوج کے وینزویلا پر فضائی حملے، دارالحکومت کاراکس سمیت متعدد علاقوں میں دھماکے

کاراکس: امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس سمیت مختلف اہم مقامات پر حملے کر دیے ہیں، جس کے بعد ملک میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ دارالحکومت کاراکس میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں جنگی طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وینزویلا میں یہ فوجی کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر کی گئی۔ میڈیا کا دعویٰ ہے کہ صرف کاراکس میں کم از کم 7 دھماکے ہوئے ہیں، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکا وینزویلا کے خلاف فوجی حملے کر رہا ہے۔ دوسری جانب وینزویلا کی حکومت نے بھی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی فضائی حملے کاراکس، میرانڈا، آراگوا اور لاگویرا ریاستوں میں کیے گئے ہیں۔
وینزویلا حکومت کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا اصل مقصد ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ حکومتی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا وینزویلا کے قدرتی وسائل حاصل کرنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ وینزویلا نے امریکی فوجی جارحیت کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔

امریکی حملوں کے بعد وینزویلا کے صدر نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور صدر صدارتی محل چھوڑ کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔
روسی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے کئی جزائر میں امریکی میرینز کی جانب سے زمینی آپریشن شروع کیے جانے کی غیر مصدقہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس سے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اسی تناظر میں کولمبیا کے صدر نے بیان دیا ہے کہ کاراکس پر میزائل داغے جا رہے ہیں اور ان حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری ہنگامی اجلاس بلایا جانا چاہیے تاکہ صورتحال کا نوٹس لیا جا سکے

شیئر کریں

:مزید خبریں