امریکی سامراج کی کھلی جارحیت

کراکس کی رات دو بجے، جب دنیا کے بڑے حصے میں خاموشی تھی، امریکی سامراج نے ایک خودمختار ریاست پر کھلی فوجی یلغار کا آغاز کیا۔ وینزویلا کے دارالحکومت اور اس کے گرد و نواح میں دھماکوں کی اطلاعات محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ عالمی سیاست میں طاقت کے ننگے استعمال کی ایک اور مثال ہیں۔ یہ حملہ نہ کسی فوری اشتعال کا ردعمل تھا اور نہ کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ، بلکہ برسوں سے جاری اس سامراجی پالیسی کا منطقی انجام ہے جو لاطینی امریکہ کو اپنی جاگیر سمجھتی ہے۔
وینزویلا پر اس جارحیت کا کوئی اخلاقی، قانونی یا سیاسی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ملک نہ امریکہ کے لیے کسی فوجی خطرے کا باعث تھا اور نہ ہی اس نے کسی ہمسایہ ریاست پر حملہ کیا۔ اس کے باوجود سمندری قزاقی، تیل کے ٹینکروں کی ضبطی، اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ اور اب براہِ راست فوجی حملہ—یہ سب اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ سامراج کے نزدیک خودمختاری محض ایک لفظ ہے، اصول نہیں۔
امریکی حکمران طبقہ ہمیشہ کی طرح اس جارحیت کو مختلف نعروں کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کبھی منشیات کے خلاف جنگ، کبھی جمہوریت کا دفاع، اور کبھی انسانی حقوق—یہ تمام جواز ماضی میں بھی استعمال ہوتے رہے ہیں اور آج بھی کیے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو امریکہ کو وینزویلا میں جمہوریت سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی وہ انسانی حقوق کا کوئی علمبردار ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا بھر میں اس کی حمایت یافتہ آمریتیں اور جنگی جرائم اس کی گواہی نہ دے رہے ہوتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ خود کو امن کا پیامبر ظاہر کرتے رہے، غیر ضروری جنگوں سے نکلنے کے وعدے کیے گئے، مگر عملی سیاست میں بمباری، دھمکیاں اور فوجی دباؤ ہی ان کی حکمتِ عملی کا مرکز رہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری یا اغوا کی اطلاعات اگر درست ہیں تو یہ بین الاقوامی تعلقات میں مافیا طرزِ عمل کی بدترین مثال ہے۔ اسے کسی صورت سفارت کاری نہیں کہا جا سکتا۔
یہ حملہ دراصل پورے براعظم کے لیے ایک پیغام ہے: جو بھی حکومت امریکی مفادات سے انحراف کرے گی، اسے اقتصادی پابندیوں سے لے کر فوجی طاقت تک ہر ہتھکنڈے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جسے مغرب ’’قواعد پر مبنی عالمی نظام‘‘ کہتا ہے، وہ دراصل واشنگٹن کی مرضی سے بنے ہوئے قواعد ہیں، جو صرف کمزور ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں، خود سامراج ان کا پابند نہیں۔
اس جارحیت کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں پر حملے عام شہریوں کی جانیں لیں گے اور خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھائیں گے۔ جنگ کسی ایک فریق کے کنٹرول میں نہیں رہتی؛ اس کی اپنی منطق ہوتی ہے اور اس کے نتائج اکثر وہ رخ اختیار کر لیتے ہیں جن کا آغاز میں تصور بھی نہیں کیا جاتا۔
وینزویلا کے مسلح افواج کے سربراہ کی جانب سے مزاحمت کی اپیل اس بات کا اظہار ہے کہ یہ قوم آسانی سے سرنڈر کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک نسبتاً چھوٹا ملک امریکی عسکری طاقت کے سامنے شدید عدم توازن کا شکار ہے۔ اس صورتِ حال میں فیصلہ کن عنصر عوامی ردعمل ہوگا—کیا مزدور، کسان اور شہری غریب اس سامراجی یلغار کے خلاف منظم مزاحمت میں ڈھل سکیں گے یا نہیں۔
بین الاقوامی سطح پر اس جارحیت کی مذمت محض بیانات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ خصوصاً لاطینی امریکہ کے عوام اور دنیا بھر کے محنت کش طبقے کی یکجہتی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ صرف وینزویلا کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر اس ملک کا مسئلہ ہے جو اپنی خودمختاری اور وسائل پر اختیار چاہتا ہے۔
آخرکار، امریکی سامراج کے خلاف وینزویلا کا دفاع کسی ایک حکومت یا فرد کی حمایت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف ہے۔ اگر آج اس جارحیت کے سامنے خاموشی اختیار کی گئی تو کل کوئی اور ملک اسی انجام سے دوچار ہو سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سامراج کو روکا نہ جائے تو اس کی بھوک کبھی نہیں مٹتی۔

خاموش قاتل

چارسدہ کے علاقے شبقدر میں ایک خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے ماں اور تین بیٹیوں سمیت چھ افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کا واقعہ کوئی اچانک آفت نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل اور نظرانداز شدہ بحران کی علامت ہے جو برسوں سے ہمارے معاشرے میں خاموشی سے جانیں لے رہا ہے۔ شادی کی خوشیوں کے لیے آئے مہمان، جو زندگی کے ایک یادگار لمحے کا حصہ بننے والے تھے، ملبے تلے دفن ہو گئے۔ یہ سانحہ نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے سماج کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
یہ حقیقت تلخ مگر ناقابلِ انکار ہے کہ ایسے حادثات قدرتی نہیں بلکہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ناقص تعمیرات، غیر معیاری تعمیراتی سامان، عمارتوں کے قوانین پر عملدرآمد کی عدم موجودگی اور ریاستی نگرانی کی کمزوری وہ عوامل ہیں جو ان سانحات کو جنم دیتے ہیں۔ خستہ حال عمارتیں، غیر قانونی توسیعات اور بارشوں کے بعد مزید کمزور ہو جانے والی چھتیں ہر وقت کسی نئے المیے کی منتظر ہوتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ چھت کیوں گری، بلکہ یہ ہے کہ اسے گرنے سے پہلے محفوظ کیوں نہ بنایا گیا۔
شبقدر کا واقعہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں۔ خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں میں ایسے سانحات بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس نوشہرہ میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد، جن میں چار بچے شامل تھے، اسی طرح چھت گرنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد چند دن افسوس، چند رسمی بیانات اور پھر اجتماعی فراموشی ہمارا معمول بن چکا ہے۔ جب تک یہ رویہ تبدیل نہیں ہوتا، یہ خاموش قاتل مزید جانیں لیتا رہے گا۔
یہ سانحات طبقاتی نابرابری کی بھی ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقہ وہی لوگ ہیں جو خستہ حال گھروں میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے پاس نہ وسائل ہوتے ہیں کہ مضبوط تعمیر کر سکیں اور نہ ریاستی ادارے انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ امیر طبقہ محفوظ رہائشی منصوبوں اور مضبوط تعمیرات کے ذریعے خود کو بچا لیتا ہے، مگر کمزور طبقات کے لیے چھت بھی ایک مستقل خطرہ بنی رہتی ہے۔ یوں قدرتی حادثے کے نام پر اصل میں سماجی ناانصافی اپنی جان لیوا شکل دکھاتی ہے۔
ریاستی اداروں کی ذمہ داری صرف حادثے کے بعد امدادی کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ امدادی اداروں کا بروقت پہنچنا قابلِ قدر ضرور ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان اداروں کے پاس پیشگی روک تھام کا کوئی مؤثر نظام ہے؟ عمارتوں کی جانچ، خطرناک ڈھانچوں کی نشاندہی، تعمیراتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور شہری و دیہی علاقوں میں باقاعدہ سروے ایسے اقدامات ہیں جو جانیں بچا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ سب اقدامات کاغذی منصوبوں سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں کو اس حوالے سے بااختیار بنایا جائے۔ یونین کونسل کی سطح پر ایسی فہرستیں تیار کی جائیں جن میں خستہ حال مکانات کی نشاندہی ہو اور ان کے مالکان کو مرمت یا خالی کرنے کے لیے واضح ہدایات دی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے محفوظ رہائش کے منصوبے بھی ناگزیر ہیں، تاکہ غربت کو موت کی سزا نہ بننے دیا جائے۔
سماجی سطح پر بھی شعور کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لوگ برسوں سے کمزور چھتوں کے نیچے رہتے ہیں، مگر خطرے کو قسمت یا مجبوری سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ ریاست اور سماجی اداروں کو مل کر آگاہی مہمات چلانا ہوں گی تاکہ لوگوں کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ یہ حادثات ناگزیر نہیں بلکہ روکے جا سکتے ہیں۔ زندگی کسی شادی کی رسم یا وقتی سہولت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
شبقدر کا سانحہ ایک اور عدد بن کر فائلوں میں دفن نہیں ہونا چاہیے۔ ماں اور بیٹیوں کی لاشیں ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہیں کہ رہائش صرف چار دیواری نہیں بلکہ تحفظ کا نام ہے۔ اگر ریاست اس بنیادی حق کو یقینی بنانے میں ناکام رہے گی تو ہر بار بارش، ہر بوسیدہ چھت اور ہر خوشی کا اجتماع ایک نئے المیے کا پیش خیمہ بنتا رہے گا۔ یہ خاموش قاتل تبھی رکے گا جب غفلت کی جگہ ذمہ داری اور رسمی افسوس کی جگہ ٹھوس عمل لے لے گا۔

قانون کے دائرے میں

قانون کے دائرے میں
نجی اسپتالوں میں ٹیکس حکام کی تعیناتی کا فیصلہ کسی اچانک جذبے یا وقتی جوش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری اس ناکامی کا منطقی ردعمل ہے جس میں ایک باوقار، تعلیم یافتہ اور بلند آمدنی رکھنے والا پیشہ مسلسل ٹیکس نظام سے بچتا رہا۔ برسوں کے اعداد و شمار یہ بتاتے رہے ہیں کہ معالجین کی ایک بڑی تعداد آمدنی کے باوجود یا تو گوشوارے جمع نہیں کراتی یا ایسی آمدن ظاہر کرتی ہے جو زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتی۔ اس پس منظر میں یہ اقدام شدت نہیں بلکہ اصلاح ہے، اور اسے اسی زاویے سے دیکھنا چاہیے۔
اعداد و شمار خود اس ناگزیر فیصلے کی گواہی دیتے ہیں۔ ملک بھر میں رجسٹرڈ معالجین کی بڑی تعداد کے مقابلے میں محض ایک محدود حصہ ٹیکس کے دائرے میں ہے، اور ان میں سے بھی بہت کم ایسے ہیں جو باقاعدگی سے گوشوارے جمع کراتے ہوں۔ اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ گوشوارے جمع کرانے والوں میں بھی اکثریت انتہائی کم آمدنی ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ ہزاروں افراد صفر آمدن دکھاتے ہیں۔ یہ دعوے اس حقیقت سے متصادم ہیں کہ نجی صحت کا شعبہ بڑے شہروں میں مہنگے نرخوں، زیادہ مریضوں اور تجارتی طرزِ عمل کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ آمدنی کی صلاحیت اور ظاہر کی گئی آمدن کے درمیان خلیج اب اتنی وسیع ہو چکی ہے کہ اسے محض غلطی یا لاعلمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اسی لیے آمدنی کے حصول اور اندراج کے مقام پر نگرانی کا فیصلہ اہم ہے۔ کاغذی گوشواروں پر انحصار برسوں سے ناکام ثابت ہوا ہے۔ حقیقی وقت میں رسیدوں اور خدمات کی جانچ ایک ایسا قدم ہے جو اس شعبے میں پائی جانے والی منظم کم رپورٹنگ کا متناسب جواب بنتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ پیغام بھی واضح ہوتا ہے کہ پیشہ ورانہ مرتبہ بنیادی مالی ذمہ داریوں سے استثنا فراہم نہیں کرتا۔
اس اقدام کو بعض حلقے مداخلت یا سختی کے طور پر پیش کریں گے، مگر یہ دلیل کمزور ہے۔ معالجین کوئی پسماندہ یا غیر رسمی طبقہ نہیں جنہیں نظام کی پیچیدگیوں کا بہانہ دیا جا سکے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو سماجی وقار، اعلیٰ تعلیم اور نمایاں نجی آمدنی رکھتا ہے۔ ایسے میں مسلسل عدم تعمیل لاعلمی نہیں بلکہ دانستہ فائدہ اٹھانا ہے۔ جب تنخواہ دار افراد اور دستاویزی کاروبار ٹیکس کا بڑا بوجھ اٹھائیں اور منافع بخش پیشے نگرانی سے بچے رہیں تو یہ مالی ناانصافی بھی ہے اور معاشی بگاڑ بھی۔
اس فیصلے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب قومی معیشت شدید مالی دباؤ میں ہو اور آمدنی بڑھانے کے لیے ٹیکس نیٹ کی توسیع کے سوا کوئی پائیدار راستہ باقی نہ رہے۔ برسوں تک اصلاحات کی بات ہوتی رہی مگر طاقتور پیشہ ور گروہوں سے ٹکر لینے سے گریز کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تعمیل جمود کا شکار رہی، نظام کی ساکھ متاثر ہوئی اور نفاذ انتخابی بن گیا۔ اس تناظر میں صحت کے شعبے میں کارروائی تاخیر سے سہی مگر درست قدم ہے۔
یہ اقدام صرف معالجین تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اگر اسے برقرار رکھا گیا تو یہ دیگر بلند آمدنی والے شعبوں کے لیے مثال بن سکتا ہے جہاں کم رپورٹنگ اور انتخابی تعمیل عام ہے۔ پرچون تجارت، جائیداد اور پیشہ ورانہ خدمات جیسے شعبوں میں بھی یہی مسئلہ موجود ہے۔ ان سب میں قانون پر مبنی، یکساں نفاذ کے بغیر معیشت معمول کے قواعد پر نہیں چل سکتی۔
البتہ ایک شرط لازم ہے۔ نفاذ منصفانہ، قانونی اور شفاف ہونا چاہیے۔ اسپتالوں میں حکام کی تعیناتی واضح طریقہ کار، احتساب اور بدعنوانی سے بچاؤ کے انتظامات کے ساتھ ہونی چاہیے۔ مقصد تعمیل ہے، خوف نہیں۔ ابتدائی اشارے کہ نوٹس کے بعد رضاکارانہ گوشواروں میں اضافہ ہوا، اس بات کی دلیل ہیں کہ نگرانی حقیقی ہو تو رویے بدلتے ہیں۔ اس رفتار کو مستقل مزاجی سے آگے بڑھایا جانا چاہیے، نہ کہ وقتی مہمات کے ذریعے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں