امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے اتحادی ممالسے مدد کی اپیل کو مغربی دنیا کی جانب سے ملنے والا جواب امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، آسٹریلیا سمیت نیٹو کے دیگر اتحادیوں نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ یہ جنگ ہماری نہیں اور ہم اس میں شامل نہیں ہوں گے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے واضح کیا ہے کہ یورپی رکن ممالک فی الحال آبنائے ہرمز تک یورپی بحری مشن کو وسعت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خوراک، کھاد اور توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا محفوظ رہنا انتہائی ضروری ہے، لیکن یورپی ممالک بحران کا حل سفارتی ذرائع سے نکالنے کی حمایت کرتے ہیں۔
جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے تو ٹرمپ کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں مٹھی بھر یورپی بحری جہازوں سے ایسی کیا توقع رکھتے ہیں جو طاقتور امریکی بحریہ خود نہیں کر سکتی؟ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے، ہم نے اسے شروع نہیں کیا۔ جرمن حکومت کے ترجمان نے بھی واضح کیا کہ اس تنازع کا نیٹو سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور جرمنی کا اس میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ لندن اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک قابل عمل منصوبے پر کام کر رہا ہے، تاہم انہوں نے نیٹو مشن کے امکان کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ان کا ملک وسیع جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔فرانس، اسپین، اٹلی، پولینڈ، یونان، سویڈن، ڈنمارک، ہالینڈ سمیت دیگر یورپی ممالک نے بھی اسی قسم کا موقف اپنایا ہے۔ اٹلی کے نائب وزیر اعظم میتھیو سالوینی کا کہنا ہے کہ اٹلی کی کسی کے ساتھ جنگ نہیں ہے اور جنگ زدہ علاقے میں فوجی جہاز بھیجنے کا مطلب جنگ میں شامل ہونا ہوگا۔جاپان اور آسٹریلیا نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا۔ آسٹریلیا نے واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنا کوئی بحری جہاز نہیں بھیجے گا۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم یہ جنگ نہیں چاہتے تھے، پہلے دن سے ہی ہم نے کشیدگی میں کمی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس عالمی انکار نے ٹرمپ انتظامیہ کو شدید ناراضی سے دوچار کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر کوئی ردعمل نہ آیا یا منفی ردعمل آیا تو یہ نیٹو کے مستقبل کے لیے بہت برا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا صرف ایک فیصد تیل ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے دوسرے ممالک کو بھی آگے آنا چاہیے۔یہ صورتحال دراصل امریکا کی بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کو ظاہر کرتی ہے۔ جب جنگ شروع کرنے کا وقت تھا تو ٹرمپ نے نہ تو نیٹو اتحادیوں سے مشاورت کی اور نہ ہی یورپی ممالک کو اعتماد میں لیا۔ اب جب جنگ مشکل ہو گئی ہے اور ایران پورے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے تو وہ اتحادیوں سے مدد مانگ رہے ہیں۔ لیکن اتحادیوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ یہ ان کی جنگ نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں صحافیوں کو بتایا کہ اب تک وہ سمجھ چکے ہوں گے کہ ان کا واسطہ کس قوم سے ہے، وہ قوم جو اپنا دفاع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی اور جنگ کو وہاں تک لے جانے کے لیے تیار ہے جہاں تک ضرورت ہوگی۔پاسدارانِ انقلاب نے پورے خطے میں امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے اور وہاں کام کرنے والے ملازمین سے جگہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امارات، سعودی عرب، کویت، عراق سمیت پورے خطے میں ڈرون اور میزائل حملے جاری ہیں۔ دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے سے ایندھن کے ٹینک میں آگ لگ گئی، ابوظہبی میں میزائل حملے میں ایک شہری ہلاک ہو گیا، فجیرہ میں تیل کی تنصیبات والے علاقے میں ڈرون حملے سے آگ لگ گئی۔امارات کی سرکاری توانائی کمپنی ادنوک نے فجیرہ میں اپنی تنصیبات پر مسلسل حملوں کے بعد اسٹوریج ٹینکوں میں تیل کی لوڈنگ کا عمل روک دیا ہے۔ سعودی عرب نے رات میں درجنوں ڈرونز مار گرائے ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران پورے خطے میں جنگ کو پھیلا چکا ہے اور امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور وہ ڈیل کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم تہران فی الحال جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر راضی نہیں ہے۔ یہ اعتراف خود امریکی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔قطر نے کہا ہے کہ سفارت کاری تبھی ممکن ہے اگر ایران حملے کرنا بند کر دے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ اگر وہ حملے روک دیتے ہیں تو ہم سفارت کاری کے ذریعے کوئی راستہ نکال سکتے ہیں، لیکن جب تک ہمارے ممالک پر حملے ہوتے رہیں گے تو یہ کمیٹیاں قائم کرنے کا وقت نہیں ہے۔یہ جنگ دراصل ٹرمپ کی انا اور سیاسی مفادات کی جنگ ہے، نہ کہ امریکی عوام یا عالمی برادری کی۔ یورپی ممالک کا انکار، مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا عدم استحکام، عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات اور امریکا کی بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی اس بات کے ثبوت ہیں کہ ٹرمپ کی یہ جارحانہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹرمپ اپنی انا پر قابو پائیں اور سفارت کاری کے ذریعے اس بحران کا پرامن حل تلاش کریں، ورنہ یہ جنگ نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔







