امریکہ میں نئی جمہوری روشنی اور ہمارے لیے سبق

نیویارک میں مسلمان آبادی تین فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کے باوجود وہاں ایک مسلمان امیدوار کی فتح نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ جمہوریت صرف آبادی کے تناسب کا نام نہیں بلکہ اصولوں اور اجتماعی شعور کا نام ہے۔ زہران ممدانی کی کامیابی محض ایک سیاسی جیت نہیں بلکہ سماجی شعور، مساوات اور جمہوری وسعت کا مظہر ہے۔ اس کامیابی نے ثابت کیا کہ اصل سیکولر معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں ووٹ نسل، مذہب، زبان اور ظاہری شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار، فکر اور عوامی خدمت کی بنیاد پر دیا جائے۔امریکی سیاست میں یہ تاریخی لمحہ اس وقت اور زیادہ معنی رکھتا ہے جب دنیا کے کئی معاشرے، خصوصاً ہمارا خطہ، مذہبی بنیادوں پر تقسیم، نفرت اور امتیاز کا شکار ہیں۔ زہران ممدانی نے سیاست میں قدم رکھتے وقت کسی خوف یا مفاہمت کی راہ نہیں اپنائی۔ انہوں نے کھلے عام ظلم کے مقابلے پر آواز اٹھائی، چاہے وہ فلسطین کے مظلوم ہوں یا بھارت کے اقلیت مخالف اقدامات۔ ایسا کرنا نیویارک جیسے شہر میں بہت بڑا جرات مندانہ فعل تھا جہاں بھارتی اور یہودی نژاد ووٹروں کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔ لیکن اصول پر ڈٹ کر چلنے والوں کو آخرکار تاریخ عزت دیتی ہے — اور یہ تاریخ کا تازہ ورق ہے۔ممدانی نے اپنے خطاب میں امید کو اصل سرمایہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اب وہ قوت نہیں رہی جس کے ذریعے عوام پر فیصلے مسلط کیے جائیں بلکہ سیاست وہ طاقت ہے جو عوام خود اپنے لیے استعمال کریں گے۔ یہ جملہ دراصل اس سوچ کا اظہار ہے جسے صحیح معنوں میں جمہوری سوچ کہا جاتا ہے۔ ان کے خطاب میں وہ آگ بھی تھی جو ظلم کے خلاف آواز بنے اور وہ محبت بھی جو کمزور طبقات کی ڈھال بنے۔انہوں نے صاف کہا کہ نیویارک اب وہ شہر نہیں رہے گا جہاں اسلام مخالف جذبات کو ہوا دے کر کامیابی حاصل کی جا سکے۔ یہ بات صرف مسلمانوں یا ایک مذہب کے لیے نہیں بلکہ ہر اس انسان کے لیے امید اور تحفظ کا پیغام ہے جسے نفرت کی سیاست نے نقصان پہنچایا۔ انہوں نے اپنے شہر کو “اندھیری سیاسی فضا میں روشنی” قرار دیا۔ یہ جملہ اس عالمی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں اس وقت شدت پسندی، قوم پرستی اور تعصبات کا اندھیرا بڑھ رہا ہے اور امید کے چراغ بہت کم بچے ہیں۔ممدانی کا اعلان کہ وہ دولت کے بل بوتے پر سیاست کرنے والوں کو بے نقاب کریں گے اور مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کریں گے — دراصل سرمایہ دارانہ نظام کے بے رحم ڈھانچے کے خلاف بغاوت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ ہر طبقے کے لیے ہوگی: تارکینِ وطن، کمزور طبقہ، رنگ کے اعتبار سے پسماندہ افراد، تنہا مائیں، وہ خواتین جو سرکاری اداروں سے نسلی تعصب کے باعث نکالی گئیں، اور وہ سب جن کے پاس کھڑے ہونے کے لیے دیوار بھی میسر نہیں۔یہ وہ زبان ہے جو عوام کی زبان ہے، غیر مراعات یافتہ طبقے کی زبان ہے، اور وہ سیاست ہے جو طاقتور طبقے کی زبان سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ سیاست مفادات کے تحفظ کی نہیں بلکہ انصاف کی سیاست ہے۔ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ ممدانی نے یہ بھی کہا کہ ان کا دفتر یہودی باشندوں کے ساتھ کھڑا ہوگا اور نسل مخالف تعصب کا مقابلہ کرے گا۔ وہ مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں — یعنی ان کی سیاست کسی انتقامی جذبے پر نہیں بلکہ برابر انصاف کی بنیاد پر ہے۔ یہ ہماری سیاست سے بالکل مختلف منظرنامہ ہے جہاں اکثر رہنما مذہب، زبان اور قومیت کو سیاسی ہتھیار بناتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے خطاب کے اختتام پر بھارتی فلم کا گیت چلایا گیا۔ یہ صرف ایک موسیقی نہیں تھی بلکہ ثقافتی تنوع کی علامت تھی۔ یہ پیغام تھا کہ دنیا صرف ایک شناخت کے ساتھ نہیں چل سکتی — مختلف تہذیبوں، زبانوں اور رنگوں کا ملاپ ہی انسانی معاشرے کو خوبصورت بناتا ہے۔اسی دوران غزالہ ہاشمی بھی امریکی تاریخ میں اہم سنگ میل بنیں۔ وہ پہلی مسلمان خاتون منتخب افسر بنی ہیں جو ریاست ورجینیا میں نائب گورنر کے عہدے تک پہنچی ہیں۔ ان کی کامیابی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ میں شناخت کے بجائے قابلیت اور خدمات کو اہمیت مل رہی ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ایک مسلمان خاتون، جو کبھی ایک استاد تھیں، آج فیصلے کرنے کے مقام پر پہنچ گئی ہیں۔یہ واقعات اس وقت سامنے آئے ہیں جب دنیا کے کئی حصوں میں مسلمان شناخت ہونے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے ماحول میں یہ کامیابیاں صرف شخصی جیت نہیں بلکہ ایک اجتماعی فتح ہیں۔ یہ اس بات کا اعلان ہیں کہ عالمی سطح پر انصاف، مساوات اور انسانیت کی سیاست زندہ ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ہم پاکستان میں کیا دیکھ رہے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں کوئی شخص اقلیت میں ہو کر اعلیٰ ترین عہدہ حاصل کر سکتا ہے؟ کیا ہم اپنے ملک میں ایسے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ووٹ کا معیار کردار اور اہلیت ہو نہ کہ مذہب، خاندانی شناخت یا گروہی وابستگی؟ کیا ہمارے ہاں انتخاب وہ فیصلہ کرتے ہیں جنہیں عوام منتخب کرنا چاہیں، یا وہ فیصلہ پہلے ہی طے شدہ ہوتا ہے کہ کون آئے گا اور کون نہیں؟ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہمارے نوجوانوں میں وہ فکری اعتماد موجود ہے جو اصولی سیاست کو آگے بڑھا سکے؟ یا ہماری سیاست صرف نعروں، شخصیت پرستی، اور وقتی جذبات تک محدود ہوچکی ہے؟زہران ممدانی اور غزالہ ہاشمی کی کامیابی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معاشرے اس وقت ترقی کرتے ہیں جب وہ خوف، نفرت اور تنگ نظری کی سیاست سے نجات حاصل کرتے ہیں۔ جب وہ اپنی اقلیتوں کو دشمن کے بجائے قوم کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اور جب وہ سیاست کو لڑائی نہیں بلکہ اجتماعی ترقی کا ذریعہ بناتے ہیں۔پاکستان میں جمہوری ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیں اسی راستے پر چلنا ہوگا۔ مذہب کو تقسیم کا آلہ بنانے کے بجائے معاشرے کو انصاف اور برابری پر قائم کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اصل ترقی وہی ہے جہاں ریاست ہر شہری کے لیے ہو، نہ کہ چند طاقتور طبقوں کے لیے۔ اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔وقت ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ دنیا آگے بڑھ رہی ہے، نئے اصولوں پر، نئی روشنی کے ساتھ۔ اور ہم؟ ہم اب بھی ماضی کی کھائیوں میں پھنسے ہیں۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے — ہم روشن راستہ اپناتے ہیں یا تاریکی کی سیاست کو گلے لگائے رکھتے ہیں۔دنیا بدل رہی ہے۔ جمہوریت انسانی شکل اختیار کر رہی ہے۔ اقلیتیں سینہ تان کر سیاست میں جگہ بنا رہی ہیں۔ اور انسانیت نفرت کے باوجود جیت رہی ہے۔اگر ہمیں مستقبل میں جگہ بنانی ہے تو ہمیں بھی یہ حقیقت قبول کرنا ہوگی کہ ترقی کا راستہ صرف انصاف، انسان دوستی اور وسیع النظر سیاست سے گزرتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں