حافظ نعیم الرحمان نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملے کو کھلی جارحیت اور دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے پورا خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کو بطور حکمتِ عملی استعمال کیا اور اعتماد سازی کے عمل کو دھوکے میں بدلا۔ ان کے بقول امریکی صدر Donald Trump کا نام نہاد “بورڈ آف پیس” درحقیقت “بورڈ آف وار” ثابت ہوا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل اپنی پالیسیوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں اور مسلم ممالک کی قیادت کو حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ پچیس برسوں کے دوران امریکی سرپرستی میں کئی خودمختار مسلم ریاستوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بدامنی اور انتشار نے جنم لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکمرانوں کو بھی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے کیونکہ امریکا کسی کا مستقل اتحادی نہیں ہوتا۔
یہ بیان انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا۔







