ہران،واشنگٹن،تل ابیب (ڈیجیٹل ڈیسک) امریکا اور اسرائیل نے اچانک ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی و میزائل حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں تہران، قم، اصفہان، تبریز، کرمان شاہ اور خرم آباد دھماکوں سے گونج اُٹھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی مشترکہ آپریشن “Epic Fury” (امریکا) اور “Lion’s Roar” (اسرائیل) کے تحت کی گئی، جس کا ہدف ایران کی اعلیٰ قیادت اور عسکری تنصیبات تھیں۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کے کمپاؤنڈ کے قریب 7 میزائل گرے۔
تاہم غیر ملکی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کو حملوں سے قبل محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
حملوں میں پاسدارانِ انقلاب گارڈز کے متعدد اعلیٰ کمانڈرز کے مارے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ
“امریکا نے ایران کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ہمارا مقصد ایران کی میزائل انڈسٹری اور نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنا ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیے جائیں گے۔
ایران نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر 75 بیلسٹک میزائل اور درجنوں ڈرون داغ دیے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے کہا کہ
“ہم نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کی پہلی لہر لانچ کر دی ہے۔”
ایران نے قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئےسکول بند کر دیے اور شہریوں کو شیلٹرز میں جانے کی ہدایت دی۔
آئرن ڈوم دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ شمالی اسرائیل میں سائرن بجنے لگے اور فضائی حدود بند کر دی گئی۔

عراق اور کویت نے ایران کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں جبکہ پاکستانی ایئر ٹریفک کنٹرول کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایران و افغانستان اور گردونواح کی فضائی حدود پر کڑی نگرانی رکھی جائے۔
تہران میں انٹرنیٹ سروس بند اور کئی مقامات سے دھواں اور آگ کے شعلے اٹھتے دکھائی دیے۔
“ہم حتمی فتح کے قریب ہیں”
ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج کی تیاری کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ:
“ہم ایران کو واپس لانے کے قریب ہیں، فوج اور پولیس مذہبی قیادت سے الگ ہو جائیں۔”
اسرائیلی حملے کے بعد قطر میں امریکی سفارتخانے نے اہلکاروں کو شیلٹرز میں جانے اور امریکی شہریوں کو “اگلے حکم تک محتاط رہنے” کی ہدایت جاری کی ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایران اسرائیل تنازع کو کھلی جنگ میں تبدیل کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی توانائی مارکیٹ پر مرتب ہوں گے۔







