الیکشن کمیشن:یونیورسٹیزمیں وی سی تعیناتی پرپابندی ختم،غیرقانونی تقرریاں ختم کرنیکاحکم

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹرمختاراحمدنے چیف الیکشن کمشنر سے وفاقی اور صوبائی یونیورسٹیوں کے ہیڈز، وائس چانسلرز،ریکٹرز کی مستقل تعیناتی کی اجازت طلب کی تھی

کچھ وی سی ابھی بھی غیرقانونی تعینات ہیں،ملتان کی ایک انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کیلئے خواجہ آصف ڈکیت کا لفظ استعمال کر چکے

ملتان(سٹاف رپورٹر)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر کی وفاقی اورصوبائی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز ، ریکٹرز اور ہیڈز کی تعیناتی پر پابندی کو ختم کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے وفاقی یونیورسٹیوں کے چانسلر صدر ڈاکٹرعارف علوی اور صوبائی یونیورسٹیوں کے چانسلرز چاروں گورنرز کو بذریعہ لیٹر مطلع کیا ہے کہ ان کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو ایک لیٹر لکھا گیا ہے جس میں چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سے وفاقی اور صوبائی یونیورسٹیوں کے ہیڈز، وائس چانسلرز کی مستقل تعیناتی کی اجازت طلب کی گئی۔ اس درخواست کو چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے منظور کر لیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار کی طرف سے چانسلرز کو لکھے گئے خط میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں وائس چانسلر ز کی اپنے مقرر کردہ وقت پر تعیناتی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور وائس چانسلرز کی بھرتیوں پر پابندی سے استثنیٰ حاصل کر لیا گیا ہے ۔الیکشن کمیشن نے بھی وائس چانسلرز کی تعیناتی سے پابندی اٹھا لی ہے۔ مزید برآں کچھ وائس چانسلرز کی غیر قانونی تعیناتیوں اور 6 ماہ میں خالی ہونے والی وائس چانسلرز کی سیٹوں پر تعیناتی کے عمل کو شروع کرنے پر بھی زور دیا ہے تاکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ ملتان کی ایک انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جس کا ذکر سابق وزیر دفاع خواجہ آصف قومی اسمبلی کے سیشن میں 2 بار اور ایک بار پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بھی کر چکے ہیں کہ ان کے مستقل محافظ بیٹھے ہیں اور وہ صاحب گھر ہی نہیں جاتے۔ بلکہ خواجہ آصف ایسے وائس چانسلر کے لیے ڈکیت کا لفظ بھی استعمال کر چکے ہیں جس کو بعد ازاں سندھ کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی جانب سے ناراضگی کے باعث واپس لینا پڑا مگر خواجہ آصف نے کہا کہ وہ اب بھی وائس چانسلرز حضرات کے ارب پتی ہونے اور کرپشن کرنے کے موقف پر قائم ہیں جس کی ریکارڈنگز ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اس لیٹر میں اس کے علاوہ مختلف سرکاری جامعات میں مستقل فنانس ڈا ئریکٹر کی تعیناتی کی بھی سفارش کی گئی ہے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں