بہاولپور (کرائم سیل) اوچ شریف تھانے میں دہم جماعت کی طلبہ سمیت خواتین پر دہشت گردی کے سنگین دفعات کے تحت درج مقدمہ کا معاملہ! جیل میں قید اقرا شفیق کی گرفتاری کے 18 ویں روز ڈی پی او بہاولپور کی جانب سے اچانک سوشل میڈیا پر وضاحتی بیان اس وجہ سے جاری کردیا گیا کیونکہ آر پی او بہاولپور کی تھانہ اوچشریف میں کھلی کچہری تھی لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر آر پی او بہاولپور کی کھلی کچہری میں سائلین کی داد رسی کرنے کے بجائے افسران ایک دوسرے کو بریف کرتے ہی رہ گئے۔ذرائع کے مطابق ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور رائے بابر سعید کی زیر صدارت کھلی کچہری ڈیڑھ گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی۔ اس دوران ایس ایچ او اوچ شریف سجاد سندھو سائلین کو بار بار بلا کر تسلیاں دیتے رہےمگر سب سے پہلے آنے والے درخواست گزاروں کو آخر میں بلایا گیا۔اہم موقع پر جیل میں قید اقرا شفیق کے والد محمد شفیق کی فریاد کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے خواجہ مرید حسین کی درخواست کو ترجیح دی گئی۔ حیران کن طور پر ایس ایچ او سجاد سندھو اور ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ نے آر پی او کو بریفنگ دیتے ہوئے محمد شفیق اور اس کے خاندان کو ناجائز قابض قرار دینے کی کوشش کی۔تاہم آر پی او بہاولپور نے محمد شفیق کی پکار پر انہیں توجہ سے سنا اور ڈی پی او بہاولپور سے استفسار کیا مگر ڈی پی او نے بغیر شنوائی کے متاثرہ خاندان کو پولیس اہلکار پر حملہ کرنے کا مجرم قرار دے دیاجس پر محمد شفیق نے سخت انکار کیا۔ریجنل پولیس آفیسر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ڈی پی او کو حکم دیا کہ تمام شواہد اکٹھے کرکے دونوں فریقین کو سننے کے بعد رپورٹ پیش کی جائے۔ اسی بنیاد پر ڈی پی او نے دونوں پارٹیوں سمیت ایس ایچ او اوچ شریف کو ریکارڈ سمیت ایس پی انویسٹی گیشن کے روبرو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ خواجہ مرید حسین اور خواجہ نثار علی نے مقامی پولیس کے ساتھ ساز باز کرکے ایک خطرناک منصوبہ تیار کیاجس کے تحت ان کے اہلخانہ اور گھریلو خواتین کو دہشت گردی کے جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا گیا۔ اب پولیس کو ہمارے پیچھے لگا دیا اور اب ہماری زمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اگر اعلیٰ افسران غیر جانبداری سے ان کی بات سنیں گے تو پولیس تھانہ اوچ شریف کی تمام سازشیں اور پراپیگنڈا بے نقاب ہو جائے گا۔
