تازہ ترین

اقتدار کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے، اصل مسئلہ نظام کا ہے: حافظ نعیم الرحمان

اٹک: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، حالانکہ آئین میں تمام اداروں کے اختیارات اور حدود واضح طور پر درج ہیں۔
اٹک میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ قیامِ پاکستان کے مقاصد آج تک پورے نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ افسر شاہی آج بھی انگریز دور کے نظام کی محافظ بنی ہوئی ہے جبکہ سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اسی فرسودہ نظام کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق بیوروکریسی خود کو عوام کا خادم نہیں بلکہ حکمران سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں اصل مسئلہ چہروں کا نہیں بلکہ نظام کا ہے، جب تک نظام تبدیل نہیں ہوگا عوام کو حقیقی ریلیف نہیں مل سکتا۔ آئین میں اداروں کی حدود کا تعین موجود ہے مگر عملاً اس پر عمل نہیں ہو رہا۔
امیر جماعت اسلامی نے طاقتور طبقات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے فارم 47 کے تحت بننے والی اسمبلیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اسمبلیوں نے جمہوریت دشمن بلدیاتی قانون منظور کیا، جسے جماعت اسلامی مسترد کرتی ہے اور اس کے خلاف 15 جنوری کو عوامی ریفرنڈم کرایا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ آئی پی پیز مافیا کے خلاف ایک بار پھر منظم تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر کے مسئلے پر حقِ خودارادیت کے بغیر کسی قسم کی ثالثی قابل قبول نہیں اور بھارت مسلمانوں کا کبھی خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے افغانستان کو مشورہ دیا کہ وہ بھارت سے امیدیں وابستہ نہ کرے بلکہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے امن کی راہ اپنائے، کیونکہ مسلم ممالک کے درمیان جنگ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
غزہ کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج کو کسی بھی صورت غزہ نہیں جانا چاہیے اور وزیراعظم کو اس معاملے پر قوم کی ترجمانی کرنی چاہیے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں