ملتان(سٹاف رپورٹر) واہ واہ اور دہشت افسران کی مگر شامت ماتحت عملے کا مقدر ۔پنجاب پولیس میں ماتحت عملہ شدید ذہنی کرب کا شکار ہو کر رہ گیا۔ ملتان کے تھانہ بستی ملوک کے سابق ایس ایچ او سمیت چار پولیس تھانیداروں کو ڈھائی کروڑ روپے تاوان اور کئی ماہ کی پوری برادری کی منتیں کرنے کے بعد عدالتی فیصلے کے نتیجے میں دیئے جانے والے سزائے موت کے حکم پر صلح اور معافی کے نتیجے میں جان خلاصی ہوئی۔ تھانہ بستی ملوک کے انسپکٹر ابرار احمد گجر، سب انسپکٹر محمود احمد، سب انسپکٹر ظفر ہراج اور اے ایس آئی محمد مختار کو سزائے موت سے بچنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی اور جس آفیسر کے حکم پر بستی ملوک پولیس کے مذکورہ تھانے داروں نے دونوں ڈاکوؤں کو فرضی پولیس مقابلے میں مارا تھا وہ ٹرانسفر کروا کر چلے گئے۔ ان کے خلاف کارروائی تو درکنار سوال جواب تک کرنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی۔ ان چاروں چھوٹے بڑے تھانیداروں میں سے سب انسپکٹر ظفر ہراج نے تقریبا ًایک سال جیل بھی کاٹی اور پھر اپنا ٹریکٹر اور اہلیہ کا زیور بیچ کر تاوان کی رقم جو کہ ڈھائی کروڑ تھی ،میں اپنا حصہ ڈالا۔ بتایا گیا ہے کہ راجہ رام پولیس نے ایک ڈیرے سے دو ڈاکو گرفتار کئے جو کہ ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔ ان کے ورثا نے ہائی کورٹ میں حبس بیجا کی رٹ دائر کر دی اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ پولیس انہیں خود ساختہ مقابلے میں مار دے گی۔ دونوں ڈاکو جو کہ ریکارڈ یافتہ تھے اور ان پر تھانہ بستی ملوک میں مقدمات بھی درج تھے، کو راجہ رام پولیس نے تھانہ بستی ملوک کے حوالے کر دیا مگر بستی ملوک پولیس کو آگاہ نہ کیا کہ دونوں ڈاکوؤں کے ورثا نے حبس بیجا کی رٹ دائر کر رکھی ہے۔ اس دور میں تعینات ایک سابق سی پی او نے تھانہ بستی ملوک کے اس وقت کے ایس ایچ او ابرار احمد گجر کو حکم دیا کہ ان دونوں ڈاکوئوں کو فل فرائی کر دیں۔ انسپکٹر ابرار گجر نے کہا کہ یہ دونوں ڈاکو تو ہیں مگر نہ ریپ کرتے ہیں اور نہ انہوں نے کوئی قتل کیا ہے مگر سابق سی پی او کا حکم برقرار رہا جس پر عمل درآمد کرنا پڑا اور دونوں ڈاکو پولیس نے فل فرائی کر دیے مگر بعد ازاں جب عدالت کے حکم پر ابرار احمد گجر، محمود احمد، محمد مختار اور ظفر ہراج نامی چاروں تھانیداروں کے خلاف دوہرے قتل کا مقدمہ درج ہوا تو کسی بھی آفیسر نے ان کی مدد نہ کی اور پانچ سال قبل ملتان میں تعینات سی پی او تبدیل ہو کر چلے گئے مگر نہ انہوں نے بطور سی پی او ان چاروں کی کسی بھی قسم کی امداد کی اور نہ ہی کسی دیگر آفیسر نے بلکہ ان چاروں کیلئے دوہرے قتل میں سزائے موت کا حکم ہو گیا۔ ظفر ہراج تو گرفتار ہو گیا مگر باقیوں نے مفروری اور روپوشی کاٹی اور اس دوران منت ترلے شروع ہوئے مگر کسی بھی طور پر بات نہ بنی تو بذریعہ مذاکرات سوا کروڑ فی کس کے حساب سے ڈھائی کروڑ خون بہا طے ہوا جس پر ان چاروں کے سروں سے سزائے موت کی تلوار تو ٹل گئی مگر اس واقعے نے پنجاب بھر کے تھانیداروں میں عمومی اور ملتان رینج کے تھانیداروں میں خصوصی خوف کی فضا پیدا کر رکھی ہے کہ افسران کا حکم نہ مانیں تو بھی قابل قابل گرفت اور مان لیں تو بھی جان نہیں چھوٹتی۔







