افسر شاہی کیلئے الگ قانون، دوبارہ ملازمت پر پنشن، تنخواہ، مراعات بحال

ملتان(سٹاف رپورٹر)آئی ایم ایف کی شرائط کو بہانہ بنا کر عام آدمی کی زندگی اجیرن کرنے والی حکومت وقت اور بیوروکریسی نے آئی ایم ایف ہی کی ہدایات کو روندتے ہوئے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمتیں حاصل کرنے والوں کے لیے پنشن، نئی تنخواہ اور تمام تر مراعات بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرکے افسر شاہی کی بے چینی کو ختم کرتے ہوئے دوبارہ کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ دو سال قبل آئی ایم ایف نے یہ شرط رکھی تھی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جس کسی کو بھی ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت پر رکھیں گی انہیں پنشن یا پھر نئی تنخواہ دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا اور کسی بھی صورت میں پینشن تنخواہ و دیگر مراعات اکٹھی نہیں دی جا سکتیں۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا مگر اب بیوروکریسی کے دباؤ پر حکومت نے وہ نوٹیفکیشن واپس لے کر بیوروکریسی کو خوش اور مطمئن کر دیا ہے۔ اب پینشن کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ افسران کے لیے نئی تنخواہ اور تمام تر مراعات دوبارہ سے بحال کر دی گئی ہیں۔ توجہ طلب امر یہ ہے کا گزشتہ دو سال سے مرکزی اور صوبائی حکومتیں یہ واویلا مچا رہی ہیں کہ ان کے پاس ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور بہت سے اداروں میں پنشن رک بھی جاتی ہے یا پھر طویل وقفوں کے بعد دی جا رہی ہے اور جو حکومتیں پینشن کو معیشت پر بوجھ قرار دے رہی ہیں وہی حکومتیں ریٹائرڈ ملازمین کو دوبارہ اکاموڈیٹ کرنے کے لیے نہ صرف عمر کی حد میں اضافہ کر رہی ہیں جو پہلے کبھی 63 سال تھی پھر 65 سال ہوئی اور اب 70 سال کر دی گئی ہے اور اس عمر کی حد میں اضافے کے ساتھ ساتھ تنخواہوں اور تمام پرکشش مراعات بھی بیوروکریسی پر نچھاور کر رہی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں