ملتان (سٹاف رپورٹر) وفاقی دارلحکومت سے دور ملتان میں تعینات نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر عبد الغفار شیخ ،ڈائریکٹر ذیشان اور ان کے ٹاؤٹ ارسلان ایڈووکیٹ کی لوٹ مار اور سفاکی کی حیران کن داستانیں منظر عام پر آئی ہیں اور معلوم ہوا ہے کہ اس ٹولے کےپالتو پرائیویٹ افراد غنڈہ گردی کی انتہا کیے ہوئے تھے اور انہوں نے ضلع لیہ کے علاقے فتح پور سے آن لائن کاروبار کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک سے منسلک 17 افراد کو ان کے والدین سمیت اغوا کیا اور مجموعی طور پر ان سے 45 کروڑ روپیہ وصول کیا ان پر تشدد کیا۔ ان کی برہنہ اور فحش فلمیں بنا کر ان کے ورثاکو بلا کر دکھائیں اور پھر دبئی میں مقیم ان کے سرغنہ کو بیچ میں ڈال کر مجموعی طور پر 45 کروڑ روپیہ لے کر اس گروہ کی جان چھوڑی۔ بتایا گیا ہے کہ نیشنل کرائم کنٹرول انویسٹیگیشن ایجنسی کا ملتان میں تعینات سابق افسران کایہ گروہ لاہور کے سرفراز چوہدری گینگ سے کئی ہاتھ آگے تھا اور وہ تو محض نو کروڑ روپے میں گرفت میں آگئےمگر ان افسران نے تو صرف ضلع لیہ سے 45 کروڑ روپے سے زائد کی رقم اینٹھی جبکہ میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص عبدالحسیب کو ایک ہفتہ اپنی قید میں رکھا اور عبدالحسیب کے مطابق اس ایک ہفتے کے دوران انہوں نے مختلف لوگوں سے 15 سے 20 کروڑ روپیہ اکٹھا کیا اور جب یہ باہر سے رشوت کی مد میں جمع شدہ پیسہ لے کر آتے تو اس کے سامنے پھینک دیتے اور اسے کہتے ان کو گن کر بتاؤ کتنے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ عبدالغفار شیخ اور ذیشان اس وقت بظاہر تو مفرور ہیں مگر ان کے معاملات مبینہ طور پر تحقیقاتی افسران سے طے ہو چکے ہیں اس لیے وہ منظر سے آؤٹ اور زیر زمین ہیں اور انہوں نے بس ایک ہی شرط رکھی تھی کہ وہ گرفتاری دیتے ہیں بس انہیں برہنہ کرکے اس طرح مارا نہ جائے جیسے وہ دوسروں کو مارا کرتے تھے مگر اسی دوران ارسلان ایڈووکیٹ نے اسلام آباد کے ایک شخص کے ذریعے بیچ کا راستہ نکال لیا اور پھر ڈیل کے بعد اس گینگ کو ڈھیل مل گئی۔ میاں چنوں کے رہائشی عبدالحسیب نے بتایا کہ اسے برہنہ کرکے روزانہ تشدد کیا جاتا تھا اور پھر اس برہنہ تشدد کی ویڈیو بنانا ارسلان نامی ایڈووکیٹ کی ذمہ داری میں شامل تھا۔ عبدالحسیب کے مطابق ارسلان ایڈووکیٹ خود کو خفیہ ایجنسیوں کا نمائندہ ظاہر کرکے اپنے ساتھ ایک دو لوگ اور بھی رکھتا تھا جنہوں نے مخصوص انداز اور مخصوص قسم کی حجامتیں بنوا رکھی تھیں اور وہ یہ دباؤ ڈالتے تھے کہ ہم پاکستان کی اہم ترین ایجنسیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم آپ کو لے جانے کے لیے آئے ہیں پھر عبدالغفار کے ماتحت ذیشان جو کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھا، وہ ان کی منتیں کرکے ایک مکمل ڈرامے کا ماحول بنا کر ہمیں روک لیتا اور پھر میرے والد کو بلا کر ویڈیو دکھائی جاتی اور اس طرح میاں چنوں کے رہائشی عبدالحسیب کے والد سے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے اور مزید تشدد نہ کرنے کے وعدے پر 34 لاکھ روپیہ وصول کیا۔ تمام تر الزامات عبدالحسیب نے ایف آئی اے کے حکام کو کی جانے والی درخواست میں عائد کر رکھے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی کا ٹاؤٹ ارسلان سونے کا کاروبار کرنے والے اسامہ نامی ایک شخص کو پاکستان کی ایک باثر اور اہم ترین خفیہ تحقیقاتی ایجنسی کا اعلیٰ افسر قرار دے کر گرفتار افراد پر دباؤ ڈالتا تھا اور منہ مانگی رقم وصول کرتا۔ عبدالحسیب نے یہ بھی بتایا کہ ایک مرتبہ اسی کی طرح گرفتار ایک شخص کے ساتھ 90 لاکھ میں ڈیل ہوئی اور 90 لاکھ روپیہ ہزار ہزار روپے کے نوٹوں پر مشتمل تھا جسے گننے کے لیے عبدالحسیب کے سامنے رکھ دیا گیا جس میں سے 40 لاکھ روپیہ عبدالحسیب نے گن کر دیا اور 50 لاکھ روپیہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذیشان نے گنتی کیا۔ نیشنل کرائم ایجنسی کی زیر حراست رہنے والے عبدالحسیب نے اپنی درخواست میں تحریری طور پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ یہ گینگ ہفتے میں 15 سے 20 کروڑ روپے اکٹھا کرتا تھا۔ عبدالغفار شیخ نے ٹاؤٹ ارسلان اور اسامہ کے ساتھ مل کر خواتین کا ایک ہنی ٹریپ گینگ بھی بنا رکھا تھا جس کے لیے بعض لڑکیوں حتیٰ کہ طالبات کو بلیک میل کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور ان کے ذریعے دیگر لوگوں کو پھانسا جاتا تھا۔







