ملتان (سٹاف رپورٹر) کرے کوئی بھرے کوئی۔ جنوبی پنجاب کے دوسرے بڑے شہر بہاولپور کی سب سے بڑی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے برطرف وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کے غیر قانونی اقدامات، بے دریغ اورغیر ضروری بھرتیاں یونیورسٹی ملازمین اور انتظامیہ کیلئے درد سر بن گئیں۔ گزشتہ ماہ کی صورتحال کے مطابق 51 کروڑ کی تنخواہ کا 24 کروڑ فرسٹ ویمن بینک سے لے کر ادا کرنا پڑا جبکہ اس ماہ صورتحال یہ ہے کہ جنوری کی 8 تاریخ تک کسی بھی سٹاف ممبر کو دینے کیلئے خزانے میں ایک روپیہ نہیں ہے اور روزانہ کی مختلف مدات میں کلیکشن تقریباًتین ملین کے قریب ہے اور جو تھوڑی بہت باقی رقم خزانے میں موجود ہے یا کالجز کی ایفلیشن کا تھوڑا بہت روپیہ جو کہ آٹھ سے دس دنوں تک اکٹھا ہو سکتا ہے اس سے بھی زیادہ سے زیادہ 20 ملین کی رقم جمع ہو سکتی ہے۔ اس لئے آٹھ جنوری 2025 سے پہلے کسی بھی ملازم کو تنخواہ کی مد میں ایک روپیہ دینا بھی ممکن نہ ہے۔ 8 جنوری 2025 کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی انتظامیہ کی ایڈیشنل چارج وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کے ساتھ میٹنگ میں یہ بات طے کی جائے گی کہ یونیورسٹی کے خزانے کے مطابق زیادہ سے زیادہ گریڈ پانچ تک کی تنخواہیں دینا ممکن ہے اور اگر انتظامیہ تھوڑی سی اور ممکن کوشش کر لیں تو بھی زیادہ سے زیادہ گریڈ 11 تک دینا ممکن ہے۔ گریڈ 12 سے گریڈ 21 تک کے تمام ملازمین اور افسران کو اس ماہ کی تنخواہیں دینا ناممکن ہو چکا ہے۔پچھلے ماہ تنخواہوں کے بقایا جات قرض لے کر ادا کئے گئے اس بار قرض لینا بھی ناممکن ہے اور جو شارٹ ٹرم قرضہ بینک سے لیا گیا اس پر 24 کروڑ پر تقریباً 29 لاکھ روپے ایک ماہ میں سود کی مد میں ادا کرنا پڑ رہا ہے تو موجودہ صورتحال میں یونیورسٹی کو قرضہ بھی ملنا ناممکن ہے۔ یوٹیلیٹی بلز کے بقایا جات بھی یونیورسٹی پر ایک بہت بڑا بوجھ ہیں۔ یونیورسٹی نے ایچ ای سی سے تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے 41 کروڑ کی درخواست کی ہے جس سے اس ماہ کے آخر تک تنخواہیں دینا ممکن ہو گا تاہم اگلے ماہ سمسٹر فیس کی وصولیوں سے یونیورسٹی کو کچھ سہارا مل سکے گا۔ اس بارے میں جب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی 70 فیصد ایسے پروگرامز موجود ہیں جس میں ہر کلاس میں صرف پانچ سے سات طالبعلم ہیں اور اس صورتحال میں کی جانے والی ضرورت سے زائد اور غیر قانونی بھرتیاں نہایت نقصان دہ ہیں۔ یاد رہے کہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے نئے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ معظم اعجاز نے یونیورسٹی کا چارج سنبھالتے ہی کم طلبا و طالبات والے ڈیپارٹمنٹس یا تو بند کر دیئے ہیں یا پھر ان ڈیپارٹمنٹس کو کسی بڑے ڈیپارٹمنٹ میں ضم کر دیا ہے اور غیر قانونی تعینات ملازمین کو نکال دیا ہے جس سے یونیورسٹی کا پہلے ہی ماہ میں ایک کروڑ روپیہ تنخواہوں کی مد میں بچ گیا اور نئے وائس چانسلر کے اس فیصلے نے یونیورسٹی کو بہت بڑے نقصان سے بچا لیا ہے۔ روزنامہ قوم کے سٹاف رپورٹر نے اس خبر پر موقف کیلئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ا کیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ریاض احمد خان سندھڑ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔






