ملتان( رپورٹ :منصورعباس سنپال) بدتمیزی، توہین، تذلیل کرنے اوربلا تعطل مسلسل گالیاں دینے پر لاہور کا ایک اور قائم مقام ڈی ایس پی قتل ہو گیا،پنجاب میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی کئی واقعات ہو چکے ہیں جنہیں جلد ہی پولیس اہلکارو افسران بھول کر روایتی بدتمیزی اور گالیوں اتر آتے ہیں، ماضی میں اسی قسم کے ایک واقعہ میں گالیاں دینے پربہاولپور کے ڈی آئی جی ملک محمد اشرف کو ان کے گن مین رانا احمد حسن نے برسٹ مار کر اوچ شریف کے قریب رحیم یار خان جاتے ہوئے راستے میں گاڑی روک کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا،اور پھر اسی پر بس نہیں کیا تھا بلکہ ڈی آئی جی ملک اشرف کی لاش گاڑی کی ڈگی میں رکھ کر بہاولپور لا کر ڈی آئی جی آفس کے اندر اندھا دھند فائرنگ کر کےاےڈی آئی جی عبدلرحمٰن کو بھی قتل کر دیا تھا، پولیس افسران کے اس دوہرے قتل پر پنجاب بھر میں پولیس کا ایک ہی رات میں اخلاق درست ہو گیا تھا، گالیاں ان کی زبان سے غائب ہو چکی تھیں اور خوف سے پیدا ہونے والے اخلاق سے ان کا قبلہ تھوڑے عرصے کے لیے ٹھیک بھی ہو گیا تھا ،پنجاب پولیس نے اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی تھی جس میں سابق آئی جی پنجاب ملک محمد اقبال کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے قاتل رانا ا حمد حسن پر ہر طریقے سے دباؤ ڈال کر حقائق جاننے کی کوشش کی تھی کیونکہ پولیس دانستہ طور پر اسے انٹرنیشنل سازش کا رنگ دے رہی تھی مگررانا احمدحسن جو کہ ہیڈ کانسٹیبل تھا اور فیصل آباد کا رہائشی تھااور جسے بہاولپور جیل میں پھانسی دے دی گئی، پھانسی سے قبل احمد حسن نے آخری خواہش ظاہر کر کے ایک اخبار کے اس وقت کے بیورو چیف نصیر چوہدری کو پھانسی کے وقت اپنے پاس بلایا تھا اور پھندا لگنے سے پہلے یہی بات کی تھی ’’اسی گالیاں کھان واسطے نہیں جمے مینوں اپنی پھانسی دا کوئی افسوس نہیں ‘‘ پھر وہ پھندے سے جھول گیا، ملک محمد اشرف مرحوم جو سرگودھا کے رہنے والے تھے اور سی ایس پی آفیسر تھے انکے بارے میں مشہورتھا کہ گالیاں دینے پر آتے تو کئی کئی منٹ گالیاں دیتےتھے۔ وہ خود وائرلیس پر پیغام بھی نہیں دیا کرتے تھے بلکہ ان کے حکم پر رانا احمد حسن ہی انکے پیغام جاری کرتا تھا ۔ملک محمد اشرف بہاولپور سے رحیم یار خان جا رہے تھے اوچ شریف کئے قریب کسی بات پر تلخ ہوئے تو رانا احمد حسن اور ڈرائیور کو گالیاں دینے لگے جس پر اوچ شریف کے ناکے سے ایک کلو میٹر قبل مین شاہراہ پر ہی رانا احمد حسن نے گاڑی رکوائی اور ڈی آئی جی پر برسٹ کھول دیا۔ پھر اطمینان سے وائرلیس پر پیغام دیا کہ ڈی آئی جی صاحب نے دورہ رحیم یار خان منسوخ کر دیا وہ واپس بہاولپور آ رہے ہیں۔ ڈی آئی جی کی نعش کو گاڑی کی ڈگی میں ڈال دیا اور واپسی پر تمام راستے احمد حسن وائرلیس پر پیغام دیتا آیا کہ تمام افسران ڈی آئی جی آفس پہنچ جائیںاور اس نےباقاعدہ افسران کے نام لے کر ڈی آئی آفس پہنچنے کا کہا، ڈی آئی جی آفس پہنچ کر جب ڈی آئی جی کی گاڑی دفتر میںداخل ہوئی تو اے ڈی آئی جی عبدلرحمٰن بھاگ کر برآمدے میں آئے تو رانا احمد حسن نے ان پر بھی سمی آٹو میٹک گن سے برسٹ مارا اور وہ موقع پر جان بحق ہو گئے پھر رانا احمدحسن سے ایس پی بہاولپور کو ’’پنجابی میں کہا کہ تہاڈا ڈی آئی جی مریا پیا جے لاش ڈگی وچوں کڈھ لئو ‘‘۔چند سال قبل اسی شہر ملتان میں ایک ایس پی کو اپنے اے ایس آئی کو گالیاں دینے پربھی جان کے لالے پڑ گئے تھے گالیاں کھانے والے اے ایس آئی نے چھٹی کے وقت ایس پی کے اردلی کو کہا کوئی اندر نہ آئے ایس پی صاحب نے ضروری کام کے لیے بلایا ہے اور ایس کے کمرے میں ریوالور نکال کر ایس پی پر تان کر کہا کہ’’ کڈ جیہڑی گال کڈ نی او‘‘ تو ایس پی نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اے ایس آئی سے فی الفور معافی مانگ لی تھی،اور منت سماجت سے اس کا غصہ ٹھنڈا کر کے بات ہی گول کر دی تھی۔






