اسلام آباد کی عدالت کا فیصلہ: علی امین گنڈا پور کی اشتہاری حیثیت برقرار، پولیس کو فوری گرفتاری کا حکم

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کے خلاف احتجاج کے مقدمے میں علی امین گنڈا پور کی اشتہاری حیثیت ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی اور ان کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اسلام آباد پولیس کو ہدایت دی کہ علی امین گنڈا پور کو گرفتار کیا جائے، تاہم اگر پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے کوئی حکم موجود ہو تو اس کی تعمیل بھی کی جائے۔
یہ مقدمہ تھانہ انڈسٹریل ایریا میں علی امین گنڈا پور سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج کیا گیا تھا، جن پر پارٹی چیئرمین کی نااہلی کے بعد اسلام آباد میں مظاہرے کرنے کا الزام ہے۔
عدالت میں سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید خان اور دیگر شریک ملزمان پیش ہوئے۔ وکلا کی استدعا پر عدالت نے سماعت 6 اگست تک ملتوی کر دی، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ علی امین گنڈا پور کی عدم حاضری کے باعث ان کے وارنٹ گرفتاری بدستور نافذ العمل رہیں گے اور پولیس قانون کے مطابق کارروائی کرے۔
ادھر عدالت نے پی ٹی آئی کے 18 مارچ کے احتجاج سے متعلق کیس میں فیصل آباد سے ایم این اے علی افضل ساہی کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ علی افضل ساہی اب تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ تھانہ گولڑہ میں درج اسی مقدمے میں دیگر غیر حاضر کارکنان کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے ہیں اور سماعت 9 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں