اسلام آباد: جی الیون کچہری کے باہر بھارتی حمایت یافتہ اور افغان طالبان کی پراکسی تنظیم “فتنۃ الخوارج” کے مبینہ خودکش حملے میں 9 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
ابتدائی تفصیلات کے مطابق دھماکا کچہری کے مرکزی دروازے کے قریب اس وقت ہوا جب لوگ معمول کے مطابق عدالتی کارروائیوں کے لیے جمع تھے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس کھڑے افراد بری طرح زد میں آگئے۔
عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے فوراً بعد افرا تفری مچ گئی، ہر طرف چیخ و پکار سنائی دینے لگی جبکہ مبینہ خودکش حملہ آور کا سر جائے وقوعہ سے برآمد ہوا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے کچہری کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام ہونے پر پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
دھماکے کے نتیجے میں 9 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ 21 زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں 3 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ پمز اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر امدادی اداروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ فورنزک ٹیم نے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے واقعے کو خودکش دھماکا قرار دیا گیا ہے، تاہم مکمل تفتیش کے بعد حقائق سامنے آئیں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا ردعمل: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اسلام آباد کچہری پہنچے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “آج 12 بج کر 39 منٹ پر خودکش حملہ ہوا، جس میں 12 لوگ شہید اور 27 زخمی ہیں۔ وزیر اعظم نے فوری طور پر زخمیوں کے علاج کی ہدایت کی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کا ہدف کچہری کے اندر داخل ہو کر بڑا نقصان پہنچانا تھا لیکن ناکامی کے بعد اس نے خود کو پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکے سے اڑا لیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ “ہمیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ افغانستان کیا کر رہا ہے۔ افغانستان میں شرپسند عناصر کی ٹریننگ ہوتی ہے اور وہی لوگ پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں کرتے ہیں۔ ہم نے افغانستان کو ثبوت فراہم کیے ہیں، اگر انہوں نے ان عناصر کو نہ روکا تو ہم خود بندوبست کریں گے۔”
وزیر داخلہ نے وانا میں ہونے والے خودکش حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “وہاں بھی افغانستان کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ کچہری حملے میں ملوث کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے گا، سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔”
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا ردعمل: دھماکے کے بعد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی نے کل 12 نومبر کو مکمل ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
صدر ڈسٹرکٹ بار نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ حملہ ناقص سیکیورٹی انتظامات کا نتیجہ ہے، حکومت فوری طور پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔”
انہوں نے کہا کہ “ہم شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں، اور اس سانحے پر مکمل عدالتی بائیکاٹ کریں گے۔”







