اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات اختتام پذیر، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
ایرانی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات تقریباً 14 گھنٹوں تک جاری رہنے کے بعد مکمل ہوئے، جبکہ اب دونوں جانب کی تکنیکی ٹیمیں تحریری مسودوں کے تبادلے میں مصروف ہیں۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ کچھ اختلافات برقرار رہنے کے باوجود مذاکراتی عمل جاری رکھا جائے گا۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ یہ مذاکرات آئندہ مرحلے میں بھی جاری رہیں گے اور اتوار کے روز وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوں گے، بشرطیکہ پاکستان کی پیش کردہ تجاویز پر دونوں فریق متفق رہیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی اس بات چیت میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم کئی معاملات پر مزید تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے، جس کے باعث فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ باقی امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ایرانی حکام لبنان کی صورتحال پر اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہاں مکمل جنگ بندی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ ایران نے اس حوالے سے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ Israel کو جنگ بندی کے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے دباؤ ڈالے۔
ایرانی وفد نے یہ معاملہ مذاکرات کے دوران پاکستانی ثالث کے سامنے بھی سنجیدگی سے اٹھایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کی مجموعی صورتحال بھی ان مذاکرات کا اہم حصہ بنی ہوئی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں