ملتان (سٹاف رپورٹر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے 42 کروڑ روپے کے ہولناک مالیاتی سکینڈل کی تحقیقات میں ایک اور چونکا دینے والا موڑ سامنے آ گیا ہےجس نے نہ صرف یونیورسٹی انتظامیہ کے دعوؤں کو مشکوک بنا دیا ہے بلکہ پورے معاملے کو مزید پیچیدہ اور سنسنی خیز رخ دے دیا ہے جس میں ایک متنازعہ انڈیمنٹی بانڈ کے ذریعے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ سب سے بڑا تضاد خود یونیورسٹی کے ترجمان (پی آر او) کے بیان میں سامنے آیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ’’اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی‘‘ کام کر رہی ہے، تاہم دستیاب سرکاری دستاویزات نے اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے۔ 4 فروری 2026 کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس معاملے پر انکوائری نہیں بلکہ ایک پروب کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو قانونی اور انتظامی اعتبار سے ایک بالکل مختلف نوعیت کی کارروائی سمجھی جاتی ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق اس پروب کمیٹی کی سربراہی پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف کو سونپی گئی جبکہ دیگر ممبران میں انچارج فیکلٹی آف انجینئرنگ پروفیسر ڈاکٹر محمد امجد، شعبہ اکنامکس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر علی اعظم اور اسسٹنٹ خزانچی محمد اسداللہ شامل تھے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ کمیٹی کے تمام ارکان کا تعلق خود اسی ادارے سے ہےجس پر مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد ہیں، جس سے اس تحقیقات کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے حساس اور کروڑوں روپے کے مالیاتی سکینڈلز میں اندرونی افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینا شفاف احتساب کے اصولوں کے سراسر منافی ہے اور اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اصل حقائق کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وائس چانسلر آفس کے ذرائع نے مزید تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس پروب کمیٹی کی رپورٹ تقریباً 15 روز قبل وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کو موصول ہو چکی ہے تاہم وہ تاحال اس رپورٹ پر دستخط کرنے سے گریزاں ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس تاخیر کی بنیادی وجہ وہ شدید ’’ہائی لیول‘‘ دباؤ ہے جو مبینہ طور پر ان افسران کی جانب سے ڈلوایا جا رہا ہے جنہوں نے اس متنازعہ 42 کروڑ روپے کے انڈیمنٹی بانڈ پر دستخط کیے تھے۔ یہاں ایک اور نہایت سنگین پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ اسی بانڈ پر دستخط کرنے والے اس وقت کے رجسٹرار، خزانچی اور ڈپٹی خزانچی طارق محمود شیخ جن کو بعد ازاں موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کی سفارش اور گورنر کی منظوری سے باقاعدہ خزانچی تعینات بھی کر دیا گیا۔ یہ پیش رفت خود اس بات پر بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا ایک زیرِ تفتیش افسر کو ترقی دینا شفافیت کے اصولوں کے مطابق ہے یا یہ ایک منظم تحفظ کا حصہ ہے؟ تعلیمی و قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب یہ معاملہ محض ایک مالی بے ضابطگی نہیں رہا بلکہ ایک مربوط سسٹم فیلیئر اور مبینہ ملی بھگت کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں نہ صرف قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا بلکہ بعد ازاں انہی افراد کو بااختیار عہدوں پر بٹھا کر احتساب کے عمل کو بھی کمزور کیا گیا۔ ادارے کے اندر سے اٹھنے والی آوازیں اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں، جہاں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر ایک 42 کروڑ روپے جیسے بڑے اسکینڈل کی تحقیقات بھی غیر واضح، متضاد اور اندرونی سطح تک محدود رکھی جائیں گی تو پھر شفاف احتساب کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ حلقوں کا کہنا ہے کہ پی آر او کے بیان اور سرکاری نوٹیفکیشن کے درمیان واضح تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں حقائق کو چھپانے یا توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر واقعی ادارہ خود کو شفاف ثابت کرنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کسی آزاد، خودمختار اور بیرونی ادارے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے کروائی جائیں۔ یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چانسلر اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے اسکینڈل کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے، تمام ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی ہر صورت ریکوری یقینی بنائی جائے۔ بصورت دیگر، یہ کیس نہ صرف ایک مثال بنے گا بلکہ ملک بھر کی جامعات میں بدعنوانی کے نئے دروازے کھول دے گا، جہاں احتساب کے نام پر محض رسمی کارروائیاں ہوتی رہیں گی اور اربوں روپے کے اسکینڈلز فائلوں میں دفن ہوتے رہیں گے۔ اس بارے میں جب کروڑوں کی کرپشن بارے یونیورسٹی پی آر او شہزاد خالد سے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔







