اسسٹنٹ کمشنر سٹی بہاولپور کے دفتر میں ٹاؤٹ کی اجارہ داری

بہاولپور (لیڈی رپورٹر ) اسسٹنٹ کمشنر سٹی بہاولپور کے دفتر میں مبینہ طور پر ایک غیر سرکاری شخص کی اجارہ داری کا انکشاف ہوا ہے جس نے خود کو کبھی پی اے اور کبھی آپریٹر ظاہر کر کے نہ صرف سرکاری امور میں مداخلت شروع کر رکھی ہے بلکہ محکمہ ریونیو کے معاملات میں بھی اثر و رسوخ قائم کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اویس نامی شخص کسی بھی سرکاری محکمے کا ملازم نہیںتاہم وہ دفتر میں باقاعدگی سے موجود رہ کر سائلین اور عملے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ شخص نے بااثر پٹواریوں اور مبینہ طور پر قبضہ مافیا کے ساتھ ایک منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونیو سے متعلق درخواستوں، فردوں، انتقالات اور دیگر معاملات میں وہ مخصوص افراد کو’’سہولت‘‘فراہم کرتا ہے جبکہ افسران کی جانب سے کارروائی کی صورت میں مبینہ طور پر پیشگی اطلاع بھی دے دیتا ہے۔مزید الزام یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر کوئی سائل شکایت لے کر افسران کے پاس جائے تو متعلقہ معلومات پہلے ہی متعلقہ عملے تک پہنچا دی جاتی ہیں، جس کے بعد سائل کو مختلف حربوں سے دباؤ میں لایا جاتا ہے۔ بعض متاثرین کا کہنا ہے کہ جائز معاملات بھی بغیر’’حصہ‘‘دیئے آگے نہیں بڑھتے۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر اس امر کی چھان بین کرے کہ ایک غیر سرکاری شخص کس حیثیت سے اسسٹنٹ کمشنر آفس میں بیٹھ کر سرکاری معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ اگر وہ سرکاری ملازم نہیں تو اسے دفتر تک رسائی کس بنیاد پر حاصل ہے؟قانونی ماہرین کے مطابق اگر کوئی فرد خود کو سرکاری عہدے دار ظاہر کر کے اختیارات استعمال کرے تو یہ سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے، جس پر فوجداری کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے کمشنر بہاولپور ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف انکوائری کرائی جائے، دفتر میں داخلے کے ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور حاضری رجسٹر کی جانچ کی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں