اسسٹنٹ کمشنر جتوئی پرجلوس منتشر ہونے کے بعد تشدد،پولیس بلائی گئی نہ علاج،کہانی مشکوک

اسسٹنٹ کمشنر جتوئی پرجلوس منتشر ہونے کے بعد تشدد،پولیس بلائی گئی نہ علاج،کہانی مشکوک

دوران احتجاج اے سی کیمپ میں باسط سلطان بخاری کےباردانہ ہڑپ کرنیوالے قریبی ساتھی موجود،پلاننگ کیا ہوئی پولیس کیلئے اہم ٹاسک
رات 12 بجے احتجاج ختم،ایک سے 2 بجے کے درمیان مبینہ حملہ،اے سی ہاؤس کے ملازمین نے 15 پر کال کی نہ ڈپٹی کمشنر، ڈی پی اوکو مطلع
طارق محمود اگلے روز خود گاڑی چلا کر ہسپتال پہنچےتو پتہ چلا تشدد ہوا ہے،’پولیس کو دی گئی درخواست کیوں تبدیل کی گئی‘ نے بھی کئی سوال اٹھا دئیے
نامعلوم افراد پاسکو ریکارڈ بارے کیوں پوچھتے رہے، پولیس کیلئے درجنوں سوال حل طلب،ڈی پی او خود الزامات کی زد میں،ذہین تفتیشی کی ضرورت

ملتان ( سٹاف رپورٹر) باردانہ فراہم نہ کرانے اور تحصیل جتوئی ضلع مظفرگڑھ کے درجنوں کاشتکاروں کا اسسٹنٹ کمشنر جتوئی طارق محمود پر براہ راست باردانہ بیوپاریوں ، غلہ منڈی کے آڑھتیوں اور ذخیرہ اندوزوں کو 900 روپے فی بوری کے عوض فروخت کرانے کا الزام عائد کرنا، ان کے کیمپ آفس کے باہر رات گئے تک دھرنا دینا پولیس کی موجودگی میں نعرے بازی کرنا اورپھر پرامن طورپرگھر چلے جانا مگر اگلے روز اسسٹنٹ کمشنر کا زخمی ہونا بہت سے سوال کھڑے کر گیا، جن کا جواب ہر صورت میں تفتیشی افسران کو معلوم کرنا ہوگا اور آئی جی پنجاب کو لاہور سے اچھی شہرت کے ذہین تفتیشی افسران کو تحقیقات سونپنی ہوگی کیونکہ ڈی پی او مظفر گڑھ پر بہت سے الزام کئی ماہ سے عائد ہورہے ہیں جن میں قتل جیسے سنگین نوعیت کے واقعات کے ملزمان کو ذاتی دلچسپی لے کر غیر ضروری رعایت دینا بھی شامل ہے اور پھر ایک مقتول کے ورثا کا ڈی پی او کے سامنے ایک کروڑ 60لاکھ ڈی پی او کے نام پر ایک پولیس آفیسر پر رشوت لینے کا الزام بھی عائد کیاگیا ۔ جتوئی میں اسسٹنٹ کمشنر پر تشدد اور مقامی رکن اسمبلی رانا عبدالمنان جو کہ پہلی مرتبہ باسط سلطان بخاری جیسے سیاستدان کی موروثی سیاست کو ختم کرکے ان کے مقابلے میں الیکشن جیتےہیں پر اسسٹنٹ کمشنر پر تشدد کا مقدمہ درج ہونا بہت سے سوالات کھڑے کررہاہے جو کچھ اس طرح سےہے۔
1۔جس وقت تحصیل جتوئی کے متاثرہ کاشتکار مقامی ایم پی اے کی موجودگی میں اے سی جتوئی کے دفتر کے سامنے احتجاج کررہے تھے اس وقت ایس ایچ او اورپولیس کی نفری موجود تھی ۔ بار کے صدر اور وکلا بھی تھے جتوئی کا تمام میڈیا موجود تھا جس کی موجودگی میں نعرے بازی کے بعد رات ساڑھے 12بجے احتجاج ختم ہوگیا ۔
2۔جس وقت یہ احتجاج ہورہاتھا اس وقت اے سی جتوئی طارق محمود کے کیمپ آفس میں سابق ایم این اے اور حالیہ الیکشن میں شکست کھانے والے باسط سلطان بخاری کے قریبی ساتھی اے سی کے پاس کیمپ آفس میں موجود تھے ۔ ان افراد میں سید باسط سلطان بخاری کے بزنس پارٹنر ابوزر چھجڑا بھی موجود تھے جن پر باردانہ کی ہزاروں بوریاں اے سی کے ذریعے لینے کا الزام ہے ۔ وہاں دوسرے شخص رحمت اللہ کو رائی ، رفیق سٹھاری اور نذیر عزلانی موجود تھے اور ان کی موبائل لوکیشن سے کنفرم کیا جاسکتاہے ۔ وہاں کیا پلاننگ چل رہی تھی یہ معلوم کرنا پولیس کا کام ہے ۔
3۔اے سی جتوئی جلوس کے منتشر ہونے تک ٹھیک تھے ۔ ان پر حملے کا وقت رات ایک بجے سے دو بجے کے درمیان بتایاگیا تو انہوں نے 15پر کال کیوں نہ کی ۔ اے سی ہائوس کے ملازمین نے 15پر کال کیوں نہ کی ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ ، ڈی پی او مظفرگڑھ ، ڈی ایس پی جتوئی کے علم میں بھی اس وقت کیوں نہ یہ بات لائی گئی ۔
4۔اگلے روز صبح 9بجے اسسٹنٹ کمشنر از خود گاڑی چلاکر ہسپتال جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان پر تشدد ہوا ہے۔
5۔اگر اسسٹنٹ کمشنر طارق محمود کی یہ بات درست تسلیم کرلی جائے کہ وہ ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے تو ان کا عملہ اور کیمپ آفس کے ملازمین تو ہوش وحواس میں تھے تو انہوں نے کسی ذمہ دار آفیسر کو مطلع کیوں نہیں کیا ۔
6۔اس وقوعہ کی پولیس کو دی گئی درخواست کیوں تبدیل کی گئی اور اس مشکوک واردات میں نامعلوم افراد پاسکو ریکارڈ بارے کیوں پوچھتے رہے ،پاسکو باردانہ کے ریکارڈ کا اے سی کے کیمپ آفس میں موجود ہونا اور پھر حملہ آوروں کااٹھا کر لے جانا بھی اس کہانی کو جہاں مشکوک بناتا ہے وہاں یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ اے سی جتوئی باردانہ کرپشن میں ملوث تھے اور جن کاشتکاروں نے ان کے کیمپ آفس کے سامنے مظاہرہ کیا ان کی معلومات درست تھیں ۔
7۔توجہ طلب امر یہ بھی ہے کہ ضلع مظفرگڑھ میں ابھی تک پی ٹی آئی نمبردار اورنگران دور کے حمایت یافتہ افسران تعینات ہیں اور بعض اہم افسران کی تقرری سابق دور میں سید باسط سلطان بخاری کی سفارش پر ہوئی ۔
8۔تحصیل جتوئی میں سید باسط سلطان بخاری کے والد سید عبداللہ مرحوم کے دورسے لیکر آج تک کوئی معمولی کلرک بھی سید گروپ کی مرضی کے بغیر تعینات نہیں ہوتا اورپولیس والوں کو تو خاص طورپر جتوئی میں نوکری قائم رکھنے کے لیے سید گروپ کی کاسہ لیسی کرنی پڑتی ہے ۔
ان سوالات سے اس سارے کہانی میں بہت سےشکوک پیدا کردئیے ہیں ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں