ملتان(سٹاف رپورٹر) کسٹم حکام کی لاہور میں ہونیوالی ایک کانفرنس میں اعلیٰ کارکردگی دیکھتے ہوئے چیئر مین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے گریڈ 17 کی اسسٹنٹ کلکٹر تانیہ خان کو گریڈ19 کی آسامی پر اپنا پرسنل سٹاف آفیسر منتخب کر لیا اور اس فیصلےکے بعد ایف بی آر کے کسٹم اور انکم ٹیکس ونگ کے گریڈ 22 تک کے افسران کو احکامات انہیں گریڈ17 کی آفیسر کی طرف سے دیئے جائیں گے۔ اسلام آباد کے ڈپلو میٹک انکلیو کے قراقرم بلاک کی ساڑھے سات لاکھ ماہوار کرا ئے پر رہنے والی تانیہ نے پہلے کسٹم ونگ کے اعلیٰ افسران کو جواب دہ بنایا ہوا تھا اور انہوںنے چند ماہ میں 180 سے زائد گریڈ 11 سے لے کر گریڈ 20 تک کے افسران کے تبادلوں میں کھل کر اپنی مرضی کی اور مبینہ طور پر ان تبادلوں میں بھاری ڈیل جو کہ کروڑوں روپے ہے کے الزامات بھی سامنے آچکے ہیں ۔ ایف بی آر کے ایک آفیسر نے اس تقرری کے حوالے سےکچھ اس طرح کے کمنٹس کئے ہیں ۔’’ تانیہ خان کو چیئر مین سٹاف آفیسر مقرر کیا گیا ہے جبکہ جنید جلیل ممبر کسٹم جن کے ساتھ وہ پہلے کام کر رہی تھیں وہ بھی اس گریڈ 17 کی تانیہ کی وجہ سے نمایاں اثرو رسوخ کا استعمال کرتے ہیں۔ حیرت ہے کہ تانیہ کے بارے میں اخبارات میں منفی خبریں آئیں جن پر تحقیقات کرانےکی بجائے اُسے مزید اختیارات اور ترقی سےنواز دیا گیا ۔ یہ با ت واضح ہے کہ ممبر کسٹم جنید جلیل ایک طاقت ور فرد ہیں جنہیں بہت طاقتور حامیوں کی حمایت حاصل ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسٹم ڈیپارٹمنٹ مبینہ طور پر بہت کرپشن میں ملوث ہے۔ ڈی جی کسٹم انٹیلی جنس کے تمام اختیارات چھین کر انہیں غیر فعال کر دیا گیاہے۔ اس فیصلےسے کسٹم میں چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے ڈپلو میٹس کے فلیٹ میں کیا ہو رہا ہے۔کون وہاں رہائش پذیر ہے۔ کرایہ کون ادا کر رہا ہے ؟۔ ان فلیٹس میں اعلیٰ سطح پر کرپشن کون کررہا ہے ؟ ایجنسیاں اس بارےمیں پوری طرح با خبر ہونے کے باوجود خاموش کیوں ہیں؟۔ممبر کسٹم جنید جلیل اور ان کی ٹیم کی کرپشن بارے تحقیقات کون کرے گا؟۔ یہ وہ سوالات ہیں جو کہ جوا ب طلب ہیں ۔ ایف بی آر کے ایک اعلیٰ افیسر کے ان تاثرات نے روزنامہ ’’ قوم‘‘ کی تحقیقاتی رپورٹنگ پر تصدیق کی مہر لگا دی ہے۔ روزنامہ ’’ قوم‘‘ وہ کرپشن کہانیاں منظر عام پر لے آیا جس کے بارے میں اندر خانے تو سب بات کرتے ہے اب کھلے عام کرنے لگے ہیں۔ روزنامہ ’’ قوم‘‘ نے کسٹم کرپشن ، سمگلنگ ، لا قانونیت قواعد و ضوابط کی بربادی اور رشوت کی فراوانی کی ذمہ داری تین خواتین آفیسر پر ڈالی تھی جو کہ تینوں ہی ایس پی آفیسر ز ہیں اور ان کی سربراہ پہلے تو کلکٹر کسٹم پنجاب ائر فورس زون طیبہ معید کیانی تھیں اور تانیہ حنا گل اور زیب اس کی اہم ممبران تھیں مگر چند ہی ہفتوں میں تانیہ اتنا آگے نگل گئی ہے کہ خواتین کے کرپشن میں ملوث اس گروپ کی خود بخو د ہی سرپرست بن گئی ہیں ۔ کسٹم حکام کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق چیئر مین ایف بی آر راشد لنگڑیال کے اس فیصلے کے بعد خواتین کا یہ گروپ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔






