ملتان (سٹاف رپورٹر) این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے برطرف وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو نے پیرانہ سالی اور بڑھاپے میں تعلیمی سطح کی سیاست کو خیر باد کہہ کر یونین کونسل نواب پور کی سیاست میں بھرپور انداز میں حصہ لینا شروع کر دیا اور ان دنوں ڈاکٹر اختر کالرو نواب پور کے واٹس ایپ گروپ میں لمبے چوڑے آڈیو پیغامات ڈال رہے ہیں، سالہا سال کے سیاسی سرپرستوں پر جہاں تنقید کے نشتر برسا رہے ہیں وہیں پر اپنی صفائیاں بھی دے رہے ہیں۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ نواب پور یونین کونسل سے ڈاکٹر اختر کالرو کا گروپ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں بری طرح شکست کھا چکا ہے اور ملتان کے گیلانی خاندان کی سالہا سال سے جاری سرپرستی، درجنوں احسانات اور وائس چانسلر کے 6 سال اور 4 ماہ پر محیط غیر قانونی عہدے کے خاتمے کے ساتھ ہی ڈاکٹر کالرو نے اپنا قبلہ بھی تبدیل کر لیا اور اپنے آڈیو پیغامات میں گیلانی خاندان کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے پرائم منسٹر شپ کے دوران نواب پور یو سی کے صرف 2 لوگوں کو نوکریاں دیں اور وہ بھی درجہ چہارم کی۔ حیران کن طور پر ڈاکٹر اختر کالرو اس بات کو گول کر گئے کہ وہ کس طرح میرٹ کے منافی محض سابق وزیر اعظم کے ایک سفارشی خط پر بغیر انٹرویو اور بغیر سرچ کمیٹی کی سفارشات، محض ایک سی وی کی بنیاد پر 2012 میں وائس چانسلر تعینات ہوئے اور پھر انہوں نے نواب پور ہی سے گیلانی خاندان کی سفارش پر مجاہد کالرو کو این ایچ اے میں، معظم کالرو کو قومی اسمبلی میں ایڈیشنل سیکرٹری اور طارق کالرو کو واپڈا میں 17 گریڈ میں بھرتی کروایا۔ اور یہ تمام تر بھرتیاں سید یوسف رضا گیلانی ہی کی معاونت سے ہوئیں۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ یوسف رضا گیلانی تو ملازمتیں دینے کے الزام میں سزائیں بھگتتے رہے جب کہ ملازمتیں لینے والے گیلانی خاندان کے زیر عتاب آتےہی لا تعلق ہو گئے۔






