احمد پور شرقیہ(کرائم سیل)موضع سکھیل میں خو ا تین غیر محفوظ، قتل کے بعد عصمت دری کا ایک اور ہو لنا ک کیس پولیس کی ناقص تفتیش، بااثر ملزم کو تحفظ، علاقہ خوف کی لپیٹ میں احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے موضع سکھیل کی سرزمین ایک بار پھر خواتین کے خون اور بے حرمتی کی گواہ بن گئی ہے۔ سلمیٰ جبیں کے قتل کی تلخ یادیں ابھی تازہ ہی تھیں کہ عصمت دری کا ایک اور سنگین مقدمہ سامنے آ گیا، جس نے پولیس کی کارکردگی اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی آر نمبر 516/25 بجرم 376 تھانہ ڈیرہ نواب صاحب درج کی گئی، جس میں متاثرہ خاتون عاصمہ ریاض بنت ریاض حسین کلاچی نے اپنے بیان میں انکشاف کیا ہے کہ وہ مطلقہ تھیں اور محمد شہزاد کلاچی ولد خادم حسین کلاچی، ساکن موضع سکھیل نے انہیں نکاح کا جھانسہ دے کر اپنی بہن کے گھر لے جا کر زبردستی عزت لوٹی، تشدد کا نشانہ بنایا اور زندگی برباد کر دی۔ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم عیاش، شاطر اور عادی مجرم ہے، جو مبینہ طور پر سود کے کاروبار میں ملوث ہے۔ مالی طاقت کے بل بوتے پر حسین و جمیل لڑکیوں کو نکاح کا لالچ دے کر وقتی جنسی تعلقات قائم کرنا اور بعد ازاں انہیں ٹھکرا دینا اس کی کہانیوں کا حصہ بتایا جاتا ہے، جو علاقے میں زبان زدِ عام ہیں۔ حیران کن طور پر پولیس کی سست روی اور مبینہ ملی بھگت کے باعث ملزم نے عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پولیس نے ملزم سے سازباز کر کے تفتیش کو کمزور بنانے اور ضمنی کارروائیوں کے ذریعے اسے بچانے کے لیے پیچ و خم اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ادھر علاقہ مکین شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ عاصمہ ریاض بھی کہیں سلمیٰ جبیں جیسا انجام نہ دیکھ لے، کیونکہ ملزم بااثر ہے اور اپنے جرائم چھپانے اور الزامات مٹانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ عوامی حلقوں، سماجی کارکنوں اور متاثرہ خاندان نے ڈی پی او بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ عاصمہ ریاض کو فوری جان کا تحفظ فراہم کیا جائے کیس کی غیر جانبدار، شفاف اور مکمل تفتیش کی جائے اور ملزم کو اس کے کیے کی مثالی سزا دلوا کر خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم کا راستہ روکا جائے یہ معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر اب بھی انصاف نہ ملا تو کل کسی اور بیٹی کی باری ہو سکتی ہے۔







