اوچ شریف (سٹی رپورٹر )تحصیل احمد پور شرقیہ سرکل میں مستحق خواتین کی رقوم پر ڈاکہ مگر قانون اب بھی خواب غفلت میں ایف آئی اے و دیگر اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ . تفصیلات کے مطابق احمد پور شرقیہ سرکل میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خواتین کی رقوم میں ناجائز کٹوتیوں اور مبینہ کرپشن کے انکشافات کے باوجود متعلقہ اداروں کی خاموشی نے عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے باخبر ذرائع کے مطابق ایچ بی ایل فرنچائزی اسحاق اور اور بی آئی ایس پی احمد پور شرقیہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عامر شہزاد کلاچی کے خلاف سنگین الزامات سامنے آنے کے باوجود ایف آئی اے اینٹی کرپشن اور ضلعی انتظامیہ سمیت کسی ادارے نے اب تک کوئی واضح کارروائی شروع نہیں کی ذرائع کا کہنا ہے کہ ناجائز کٹوتیوں اور مالی بے ضابطگیوں کا سلسلہ تاحال بدستور جاری ہےغریب خواتین اپنی قسط لینے پہنچتی ہیں تو انہیں پہلے کٹوتی کا کہا جاتا ہے اگر کٹوتی نا کوائیں تو کبھی سسٹم سلو کبھی اکاؤنٹ بند اور کبھی نادرا تصدیق کا بہانہ بنا کر واپس بھیج دیا جاتا ہے جبکہ پسِ پردہ ان کی قسطوں میں ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک کی غیر قانونی کٹوتیاں کی جا رہی ہیں مقامی ریٹیلرز کا الزام ہے کہ فی ٹرانزیکشن تین سو روپے فرانچائزی اسحاق مزاور کو دینا لازم قرار دیا گیا ہےبصورت دیگر ان کی ڈیوائس بلاک کر دی جاتی ہےپہلے انکشافات کے بعد عوامی توقع تھی کہ قانون حرکت میں آئے گالیکن ایف آئی اے اور دیگر ادارے تاحال چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ جب شکاری اور محافظ ایک ہی صف میں کھڑے ہوں تو انصاف کی امید خواب بن جاتی ہےسماجی کارکنوں کے مطابق بعض بااثر عناصر معاملے کو دبانے کے لیے مختلف ذرائع سے دباؤ ڈالنے اور دھمکیاں دینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ سکینڈل سرد خانے میں ڈال دیا جائےمتاثرہ خواتین نے میڈیا سے گفتگو میں شکوہ کیا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہی ہیں اوپر سے ان کی قسطوں میں ناجائز کٹوتیاں ظلم سے کم نہیں ایک خاتون نے بتایا کہ ہم سے کہا جاتا ہے کہ سسٹم سلو ہے یا اکاؤنٹ بند ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ ہماری رقم سے کٹوتیوں کے ذریعے کئی ہاتھ گرم کیے جا رہے ہیں ۔ عوامی حلقوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب خواتین کی رقوم پر ڈاکہ ڈالنے والے عناصر کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے تاکہ انصاف کی بالادستی قائم ہو اور آئندہ کسی کو قومی خدمت کے نام پر ذاتی تجوریاں بھرنے کا موقع نہ ملے۔







