بہاولپور (کرائم سیل) سرکل احمد پور شرقیہ کے تھانے ٹاؤٹوں اور پرائیویٹ رضاکاروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ متعلقہ ایس ایچ اوز لاعلم ہیں یا بقدرِ حصہ شریک ،خاموشی پر شہریوں نے سنگین سوالات اٹھا دیئےہیں۔ اوچ شریف، چنی گوٹھ، سٹی اور صدر احمد پور شرقیہ کے تھانوں میں ٹاؤٹ اور رضاکاروں کے نیٹ ورک نے پورے سرکل کو جکڑ لیا ہے۔ چنی گوٹھ تھانے میں فہیم عباسی عرف بلی سب پر حاوی ہے، تھانہ اوچ شریف میں کھڑتل شاہ اور علی متحرک ہیںجن کی صدر احمد پور تک مبینہ رسائی ہےجبکہ سٹی احمد پور میں منیر عرف منی کا مضبوط ہولڈ بتایا جاتا ہے۔ احمد پور شرقیہ پولیس پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو چکے ہیں، سکیورٹی برانچ اور سپیشل برانچ کی خاموشی پر شہری سراپا احتجاج ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈی پی او بہاولپور مذکورہ بالا ٹاؤٹوں اور رضاکاروں کے موبائل لوکیشنز اور سی ڈی آرز کے ذریعے تمام حقائق سامنے لا سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سرکل احمد پور شرقیہ کے مختلف تھانوں میں پرائیویٹ رضاکاروں اور ٹاؤٹوں کے منظم نیٹ ورک نے مبینہ طور پر اپنی اجارہ داری قائم کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ٹاؤٹوں کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہے، جبکہ تھانوں میں تعینات بعض ایس ایچ اوز مبینہ طور پر رضاکاروں کی لوٹ مار سے مکمل طور پر ناواقف نہیں بلکہ بقدرِ حصہ لے کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس پر شہریوں نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق تھانہ اوچ شریف میں پرائیویٹ رضاکار کھڑتل شاہ اور علی سرگرم ہیں، جبکہ مذکورہ علی کی تھانہ صدر احمد پور شرقیہ میں بھی مبینہ رسائی قائم ہو چکی ہے۔ اسی طرح تھانہ چنی گوٹھ میں فہیم عباسی عرف بلی خان سیاسی سرپرستی کی آڑ میں پولیس سے جائز و ناجائز کام کروانے میں مصروف ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فہیم عباسی نے چنی گوٹھ کے سابقہ ٹاؤٹوں اور رسہ گیروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق تھانہ چنی گوٹھ میں اب “کسی اور کا نہیں بلکہ فہیم عباسی کا سکہ چلتا ہے”، جہاں عام شہری بغیر سفارش اور ادائیگی کے اپنا جائز کام بھی کروانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ اسی طرز پر تھانہ سٹی احمد پور شرقیہ میں منیر عرف منی نے بھی مبینہ طور پر اپنا مضبوط ہولڈ قائم کر رکھا ہے، جو پولیس معاملات میں اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ رضاکاروں اور ٹاؤٹوں کا یہ نیٹ ورک نہ صرف پولیس کے نظم و ضبط کو متاثر کر رہا ہے بلکہ قانون کی عملداری پر بھی سنگین سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی پولیس سربراہ اور اعلیٰ حکام فوری نوٹس لیتے ہوئے پرائیویٹ رضاکاروں کے کردار، سیاسی سرپرستی اور مبینہ مالی لین دین کی شفاف انکوائری کرائیں، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔






