آڈیو لیکس کیس : شہریوں کی نجی زندگی کی معلومات کا تحفظ کیسے ہوگا؟

آڈیو لیکس کیس میں وزیراعظم آفس نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرایا ہے کہ شہریوں کی ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے لیگل فریم ورک موجود ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ وزیراعظم آفس انٹیلی جنس ایجنسیز کے حساس روزمرہ امور میں مداخلت نہیں کرتا۔ ایسا کرنا قومی سلامتی کے مفاد میں نہیں، وزیراعظم آفس انٹیلی جنس ایجنسیز سے آئینِ اور قانون کے مطابق عوامی مفاد میں کام کرنے کی امید رکھتا ہے۔ حکومت کے جواب میں دعوا کیا گیا ہے کہ فئیر ٹرائل ایکٹ 2013ء کے تحت شہریوں کی گفتگو کو ریکارڈ کرنا قانونی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسداد سائبر کرائمز ایکٹ/ پیکا ایکٹ کے تحت شہریوں کے ڈیا کو خفیہ رکھنا اور اس کو افشا ہونے سے بچانا لازم ہے۔
فئیر ٹرائل ایکٹ کو انویسٹی گیشن فار فیئر ٹرائل ایکٹ، 2013 کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایکٹ جدید تکنیک اور آلات کے ذریعے تحقیقات اور شواہد جمع کرنے کے لئے نافذ کیا گیا تھا تاکہ شیڈول جرائم کی روک تھام اور مؤثر طریقے سے نمٹا جاسکے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طاقت کو دائرہ قانون میں لایا جاسکے۔ اس ایکٹ کا دائرہ کار پورے پاکستان تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا اطلاق سیکشن 3 میں فراہم کیا گیا ہے۔ یہ ایکٹ وارنٹ کی شکل، غور اور اختیار اور وارنٹ جاری کرنے کا طریقہ فراہم کرتا ہے۔ یہ ایکٹ وارنٹ پر عمل درآمد کے لئے طریقہ کار بھی طے کرتا ہے۔ وارنٹ ہائی کورٹ کے جج کے ذریعہ جاری کیا جائے گا۔ وارنٹ ساٹھ دن سے زیادہ جاری نہیں کیا جائے گا۔
مذکورہ ایکٹ کے ابتدائیہ میں اس کے نفاذ کی غرض و غائت بارے بیان کے ضمن مين تحریر ہے:
’’جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اپنے اختیارات کو من مانے طریقے سے استعمال کرنے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ مذکورہ اختیارات کو ریگولیٹ کیا جائے اور قانون کے مطابق اور مناسب انتظامی اور عدالتی اختیارات کے تحت ان کے جائز اور منصفانہ استعمال کا اہتمام کیاجائے‘‘۔
اس قانون کے متعارف کرانے کی ایک اور غرض و غائت یہ بتائی گئی تھی کہ اس سے جدید تتکینک سے حاصل ہونے والے تفتیشی مواد کو عدالت کی کاروائی کے دوران قابل قبول ثبوت کا درجہ دیا جاسکے۔
’’پاکستان کے اندر یا باہر پاکستان کے تمام شہری۔
(ب) پاکستان کے اندر یا اس میں رجسٹرڈ کسی بھی جہاز یا ہوائی جہاز پر سوار تمام افراد
پاکستان جہاں بھی ہو۔ اور
(ج) تمام لین دین یا مواصلات پاکستان کے اندر شروع یا ختم ہوئے یا
پاکستان سے باہر کسی بھی شخص کی طرف سے شروع یا اختتام پذیر ہوا‘‘
فیئر انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائیل ایکٹ 2013ء میں اڈیو، وڈیو، تصویری یا تحریری مواد کے جمع کرنے کے لیے جس پروسیجر کا زکر ہے اور جس طرح سے اس مواد کو خفیہ رکھنے کے لیے قواعد و شرائط کے ساتھ ساتھ قدغن لگائی گئی ہے اس کے ہوتے ہوئے ایسے مواد سے کسی آڈیو، وڈیو ، تصویر یا تحریری مواد کا لیک ہوجانا بذات خود ایک جرم بنتا ہے اور یہ یا تو ملی بھگت سے ہوگا یا پھر فرائض مين غفلت برتنے سے ہوگا؟ اب سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اب تک سوشل میڈیا پر جتنی بھی آڈیو، وڈیو اور تصاویر وغیرہ لیکس ہوئی ہیں، کیا وہ فئیر انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2013ء کے تحت کسی ایک یا بہت سے افراد کے حوالے سے مبینہ الزام/ الزامات کی تحقیقات کے لیے لی گئی اجازت کے تحت ہونے والی انوسٹی گیشن کا حصّہ تھیں؟ کیا اس کی اجازت وفاقی وزیر نے دی تھی جیسا کہ اس ایکٹ کے تحت لازم ہے؟ یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ آڈیو کیس کی مدعی سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اہلیہ ہیں اور اگر سابقہ حکومت نے ان کے خلاف کسی الزام کے تحت ان کی فون کالز ٹیپ بھی کرنے کی اجازت دی بھی تھی تو کیا ان سے منسوب جو اڈیو لیکس ہوئیں، کیا وہ ان کے خلاف مذکورہ ایکٹ کے تحت ہونے والی تحقیقات کے مواد کا حصّہ ہیں؟
یہ بہت اہم مقدمہ ہے جس کا فیصلہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے سوال سے بہت زیادہ جڑا ہوا ہے۔
فئیر انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل 2013ء کا قانون منطور کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز کی جماعت اور اس کے اتحادیوں پر مشتمل حکومتی اراکین کا موقف تھا کہ اس سے ملک میں جبری گمشدگیوں سمیت قانون نافذ کرنے اور خفیہ معلومات اکٹھی کرنے والی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اندر بعض حکام کی غیر قانونی راستوں پر جانے کی روش کا خاتمہ ہوسکے گا- لیکن اب تک ملک بھر میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہیں رکا ہے۔ اب بھی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کو ماورائے قانون ہتھکنڈے استعمال کرنے اور شہریوں کو ہراساں کیے جانے اور ان کی پرائیویسی کو متاثر کیے جانے کی شکایات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے اپنی متعدد رپورٹوں میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرچکے ہیں کہ اینٹی کرپشن، نیب، انٹی جنس بیورو، سپیشل برانج سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں کسی بھی شہری کی الیکٹرانک و سائبر نگرانی کے لیے فئیر انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل میں دیے گئے پروسیجر کی پیروی نہیں کررہے ہیں اور انھوں نگران حکومت، سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ پیکا ایکٹ اور وئیر ٹرائل ایکٹ کو صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور آزادی اظہار کو روکنے کے لیے غلط استعمال کیا جارہا ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ شہریوں کی نجی زندگی کا پورا پورا تحفظ کیا جانا بہت ضروری ہے۔ ان کے الیکٹرانک اور سائبر ڈیٹا تک رسائی اور اس کا اکٹھا کیے جانے میں جس قدر احتیاط اور جس ‍قانونی پروسیچر کی ضرورت ہے اس سے انحراف برتنے والے افسر کو سخت ترین سزا دی جانی بنتی ہے۔

پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری

نگراں حکومت نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (پی آئی ایم) کو پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کے بنیادی اور غیر اہم اثاثوں سمیت قانونی، مالی اور انسانی وسائل کی ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز نے 2015 میں اپنی بندش کے بعد سے قومی خزانے کو 18 ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچایا ہے (ملک کو اسٹیل کی مصنوعات کی درآمد کے لئے غیر ملکی زرمبادلہ میں اتنا نقصان ہوا ہے جو کبھی اس میگا پبلک سیکٹر انڈسٹریل یونٹ کے ذریعہ تیار کیا جاتا تھا)، حالانکہ اس کے بعد سے تمام انتظامیہ نے اس کے طے شدہ اخراجات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے اربوں روپے تقسیم کیے ہیں۔ ایک متغیر لاگت کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو آؤٹ پٹ صفر ہونے پر خرچ نہیں کیا جانا چاہئے تھا.
اگرچہ اسٹیل ملز کو نجکاری کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے ، لیکن یہ یقینی طور پر پہلی بار نہیں ہے کہ اس کے اثاثوں کی تشخیص کا عمل کیا جائے گا ، حالانکہ اسے ضروری سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ گزشتہ آٹھ سالوں میں زمین سمیت اثاثوں کی قیمت یقینی طور پر تبدیل ہوئی ہے۔
وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے یہ ہدایت اس بات کا اطمینان فراہم نہیں کرتی کہ پی ایس ایم کو مستقبل میں طے شدہ اور متغیر اخراجات کو پورا کرنے کے لیے سالانہ بجٹ انجکشن نہیں ملے گا۔
پاکستان کی حکومتیں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے نجکاری کو ایک پالیسی کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں جس کا مقصد نہ صرف موجودہ بجٹ میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کو برقرار رکھنے کے لیے سالانہ بجٹ میں کمی لانا ہے بلکہ اس رقم کو مجموعی موجودہ اخراجات کا 48 فیصد اور 2023-24 کے لیے مجموعی بجٹ کا 44 فیصد بڑھتے ہوئے ملکی قرضوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔
اس پالیسی کو نگران سیٹ اپ نے ترجیح دی جس کی عکاسی 15 ستمبر 2023 کو ایک نوٹیفکیشن کے اجراء سے ہوتی ہے جس میں فواد حسن فواد کو نگران وفاقی وزیر برائے نجکاری مقرر کیا گیا تھا – ایک ایسی تقرری جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ نجکاری کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کے موقف کی نشاندہی ہوتی ہے، کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی روایتی طور پر ایس او ایز کو بھرتی مراکز کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔
دو سوال اٹھتے ہیں۔ سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ فواد حسن فواد کو تفویض کردہ ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت سے قطع نظر، انتخابات کی تاریخ 8 فروری 2024 مقرر کی گئی ہے، کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ ایسے تمام فیصلوں کو منتخب حکومت کی تشکیل تک ملتوی کر دیا جاتا۔
دوسری بات اور شاید اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ معیشت شدید معاشی تعطل سے گزر رہی ہے اور حالیہ ہفتوں میں پیداواری صلاحیت میں کچھ اضافے کے باوجود اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ پاکستان سرمایہ کاری یا نجکاری کے لیے سازگار ماحول فراہم نہیں کرتا۔
لہٰذا موجودہ حکومت کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ انتخابات اور تعطل ختم ہونے تک ایس او ای سے متعلق کسی بھی فیصلے کو مؤخر کردے۔
نجکاری کی حمایت سے کسی بھی انتظامیہ کو پہلے تجرباتی مطالعہ کیے بغیر فروخت کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے جس میں نہ صرف ادارے کی اصل فروخت کی قیمت کو مدنظر رکھا جائے، بلکہ اس میں مستقبل کے منافع بھی شامل ہونے چاہئیں، جو آج فروخت کی صورت میں حکومت کی طرف سے پیش گوئی کی جائے گی اور یہ بھی کہ کیا فروخت نجی پارٹی کے لئے اجارہ داری کی شرائط کا باعث بنے گی، صارفین کو نقصان پہنچانے کے لئے، غیر متوقع منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لئے زیادہ قیمت کا باعث بنیں.
لہٰذا یہ مفروضہ کہ ایک نجی کمپنی خود بخود نقصانات کو کم کرے گی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور عوامی فلاح و بہبود ہمیشہ نجکاری کے مترادف نہیں ہوتی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ نگراں سیٹ اپ بلا شبہ ایسے فیصلے کرنے کے لیے منفرد حیثیت رکھتا ہے جو منتخب حکومت کے لیے سیاسی طور پر قابل عمل نہیں ہوتے۔ تاہم یہ سفارش کی جائے گی کہ وہ پنشن کے نظام، ٹیکس اور بجلی کے شعبوں میں انتہائی ضروری اصلاحات پر توجہ دیں اور ریاستی اثاثوں کی فروخت کے حوالے سے انتہائی احتیاط برتیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں