آپریشن غضب للحق، پاکستان کی سلامتی کیلئے فیصلہ کن اقدامات

پاکستان کی سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ ملک کا پیمانۂ صبر لبریز ہو چکا ہے۔ ایک طویل عرصے تک پاکستان نے خطے میں امن کے قیام، مذاکرات اور برادرانہ تعلقات کو ترجیح دی، مگر افغان طالبان رجیم کی جانب سے درپردہ اور کھلم کھلا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مدد و سرپرستی نے حالات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کو اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے سخت اور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے پڑ رہے ہیںجن کی جھلک حالیہ سرحدی کارروائیوں میں واضح نظر آتی ہے۔
پاک افغان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ اور جارحیت کے جواب میں شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق نے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اب صرف دفاعی حکمت عملی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے 133 کارندوں کی ہلاکت، متعدد چوکیاں تباہ اور اسلحہ ڈپو تباہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف چوکس ہیں بلکہ دشمن کی ہر چال کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر یہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی اور اس کے پس پردہ کون سی قوتیں سرگرم ہیں؟
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان بارہا یہ موقف دہرا چکا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی موجودگی، سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور حملوں کے بعد افغانستان میں پناہ لینا اس امر کے واضح ثبوت ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ افغان طالبان، جنہیں کبھی “گڈ طالبان” سمجھا جاتا تھا، اب عملاً پاکستان کے امن و استحکام کے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔ ان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنا بلکہ بعض مواقع پر خاموش حمایت دینا خطے کے امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
اس تناظر میں ایک اور تشویشناک پہلو بھارت اور اسرائیل کا افغانستان کے ساتھ بڑھتا ہوا تزویراتی رابطہ ہے۔ یہ خدشہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ خطے میں پاکستان کے خلاف پراکسی وار کو ہوا دینے کے لیے افغانستان کو ایک اسٹریٹجک بیس کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بھارت پہلے ہی پاکستان کے خلاف خفیہ نیٹ ورکس، تخریب کاری اور سفارتی دباؤ کے ذریعے محاذ کھولے ہوئے ہے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون سے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس وسائل بھی اس کھیل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس ممکنہ گٹھ جوڑ نے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے سول آبادی پر شیلنگ، خواتین سمیت معصوم شہریوں کا زخمی ہونا اور مسجد کو نشانہ بنانا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے ان کے دعوؤں کی حقیقت بھی آشکار ہو جاتی ہے۔ ایک ایسی حکومت جو اپنے ہمسایہ ملک کی شہری آبادی کو نشانہ بنائے، وہ خطے میں امن کی دعویدار نہیں ہو سکتی۔ اس صورتحال نے پاکستانی عوام کے اندر شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے اور یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ریاست دہشت گردی کے ہر سہولت کار کے خلاف فیصلہ کن حکمت عملی اپنائے۔
حکومتِ پاکستان اور عسکری قیادت کا مؤقف بھی اب پہلے سے زیادہ واضح اور دوٹوک ہو چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اسی طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان کی بروقت اور مؤثر کارروائیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملے پر ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سمیت دیگر سیاسی قیادت کی جانب سے بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی حدود ریڈ لائن ہیں اور ان پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
تاہم اس کشیدگی کے وسیع تر اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر افغانستان میں عدم استحکام اور وارلارڈز کی سیاست دوبارہ زور پکڑتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان خود افغان عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی ہوگا۔ ایک غیر مستحکم افغانستان ہمیشہ سے پاکستان کے لیے سیکیورٹی چیلنج رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان ایک متوازن حکمت عملی اپنائے جس میں ایک طرف سخت سیکیورٹی اقدامات ہوں اور دوسری طرف سفارتی محاذ پر عالمی برادری کو بھی متحرک کیا جائے تاکہ افغان طالبان پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
پاکستان کو اس وقت بیک وقت مشرقی اور مغربی سرحدوں پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مشرقی سرحد پر بھارت کی جارحانہ پالیسی اور مغربی سرحد پر افغان طالبان کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں ایک دوطرفہ دباؤ کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ ایسے حالات میں قومی اتحاد، مضبوط خارجہ پالیسی اور مؤثر انٹیلی جنس نظام ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بیانیے کو مزید مضبوط کیا جائے اور داخلی سطح پر ان عناصر کا خاتمہ کیا جائے جو دشمن کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔
آخرکار یہ بات طے ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے مگر کمزوری کا تاثر دینا ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ اگر افغانستان ایک پرامن ہمسایہ بننے میں ناکام رہتا ہے اور ٹی ٹی پی کی سرپرستی جاری رکھتا ہے تو پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔ ریاست کا پہلا فرض اپنے شہریوں کا تحفظ ہے، اور جب یہ فرض خطرے میں ہو تو صبر کی حد ختم ہو جاتی ہے۔
موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی، معاشی اور داخلی محاذوں پر بھی جامع حکمت عملی اپنائے۔ دنیا کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں تنہا نہیں رہ سکتا۔ اگر خطے میں امن مطلوب ہے تو افغانستان کو بھی ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، پاکستان کا منہ توڑ جواب صرف ایک ردعمل نہیں بلکہ اپنی بقا اور سلامتی کی ناگزیر حکمت عملی ہوگا۔

رمضان کا پہلا عشرہ ختم، مہنگائی پر قابو نہ پایا جاسکا

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور ایثار کا مہینہ ہوتا ہےمگر افسوس کہ اس سال ماہِ صیام کے پہلے عشرے کے اختتام پر بھی مہنگائی کا جن قابو میں نہ آ سکا۔ بازاروں میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کے باعث روزہ داروں کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ افطار کے دسترخوان سے لے کر سحری تک، ہر مرحلے پر مہنگائی کا دباؤ واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے اور عام آدمی کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔
سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں جزوی کمی کے باوجود مجموعی صورتحال تشویشناک ہے۔ سیب 450 سے 600 روپے، امرود 300 سے 400 روپے، سٹرابیری 500 سے 700 روپے اور کیلا بھی مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ کھجور جیسی بنیادی سنتِ نبوی غذا بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ یہی نہیںگوشت کی سرکاری قیمتیں صرف کاغذوں تک محدود رہ گئی ہیں۔ بڑے گوشت کی مقررہ قیمت 800 روپے فی کلو ہے مگر مارکیٹ میں 1400 روپے تک فروخت ہو رہا ہےجبکہ بکرے کا گوشت 2500 سے3000روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مارکیٹ میں سرکاری ریٹ لسٹ کا کوئی وجود نہیں۔
رمضان جیسے بابرکت مہینے میں مہنگائی کا اس قدر بے قابو ہونا نہ صرف معاشی مسئلہ ہے بلکہ ایک سماجی المیہ بھی ہے۔ روزہ دار جب افطار کے لیے بنیادی اشیاء خریدنے نکلتے ہیں تو قیمتیں سن کر ان کی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔ دیہاڑی دار طبقہ، مزدور اور متوسط گھرانے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے لیے سادہ افطار کا انتظام بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے، جو ایک فلاحی ریاست کے دعووں پر سوالیہ نشان ہے۔اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی ہے، جو بظاہر صرف فائلوں اور فوٹو سیشنز تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ بازاروں میں نہ تو سرکاری نرخ نمایاں ہیں اور نہ ہی گرانفروشوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں نظر آتی ہیں۔ انتظامی خاموشی نے منافع خور مافیا کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف اعلانات اور اجلاسوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ رمضان میں خصوصی پرائس کنٹرول مہم چلانا، روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ مانیٹرنگ اور جرمانوں کے ساتھ ساتھ لائسنس معطلی جیسے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر انتظامیہ واقعی متحرک ہو جائے تو مصنوعی مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مہنگائی صرف معاشی اشاریہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد کا پیمانہ بھی ہوتی ہے۔ جب شہری یہ محسوس کریں کہ ریاست ان کے بنیادی حقوق اور ضروریات کے تحفظ میں ناکام ہو رہی ہے تو مایوسی اور بے چینی جنم لیتی ہے۔ رمضان کا مہینہ صبر اور شکر کا درس دیتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عوام کو بے لگام مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے فوری طور پر حرکت میں آئیں، گرانفروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں اور سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اگر اب بھی مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ عشرے میں مہنگائی کا یہ طوفان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور روزہ داروں کے لیے باقی ایامِ رمضان بھی آزمائش بن جائیں گے۔

ربافری معیشت کی جانب اہم قدم

سود کی بلند شرح، مہنگی فنانسنگ اور معیشت کی سست روی کے تناظر میں شریعہ کمپلائنٹ مالیاتی ڈھانچے کی طرف پیش رفت ایک اہم اور بروقت قدم ہے۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے کمپنیوں کے غیر شرعی قرضوں کی حد 37 فیصد سے کم کرکے 33 فیصد کرنا محض ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور اسلامی مالیات کے فروغ کی سمت ایک واضح اشارہ ہے۔ اسی طرح غیر شرعی سرمایہ کاری کی حد 30 فیصد تک لانے کی تجویز اس امر کی غماز ہے کہ ملک کی کیپٹل مارکیٹ کو بتدریج سود سے پاک ماڈل کی طرف منتقل کرنے کی سنجیدہ کوشش جاری ہے۔
اقتصادی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان میں شرحِ سود کی غیر معمولی بلندی نے صنعتی پیداوار، کاروباری توسیع اور سرمایہ کاری کے رجحان کو متاثر کیا ہے۔ بلند شرحِ سود کی وجہ سے نجی شعبہ مہنگی فنانسنگ کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے، جس سے روزگار کے مواقع محدود اور معاشی نمو سست پڑ جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں شریعہ کمپلائنٹ انڈیکس کے معیار کو عالمی سطح سے ہم آہنگ کرنا اور کمپنیوں کی درجہ بندی (3، 4 اور 5 اسٹار) متعارف کرانا سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، خصوصاً اُن سرمایہ کاروں کے لیے جو سود سے پاک سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ (پاکستان اسٹاک ایکسچینج) میں شریعہ انڈیکس کی اسکریننگ کو سخت بنانا دراصل کارپوریٹ سیکٹر کو متوازن مالیاتی ڈھانچے کی طرف راغب کرے گا۔ جب کمپنیوں پر غیر شرعی قرضوں کی حد کم ہوگی تو وہ متبادل ذرائع جیسے مضاربہ، مشارکہ، سکوک اور اسلامی بینکاری کے دیگر آلات کی طرف بڑھیں گی۔ اس سے نہ صرف اسلامی مالیاتی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ مجموعی مالیاتی نظام میں استحکام بھی آئے گا، کیونکہ سودی قرضوں پر انحصار کم ہونے سے ڈیفالٹ رسک اور شرحِ سود کے جھٹکوں کا اثر بھی محدود ہوگا۔
تاہم معاشی جائزہ یہ بھی بتاتا ہے کہ مکمل ربافری نظام کی طرف منتقلی ایک تدریجی اور پیچیدہ عمل ہے۔ پاکستان کی موجودہ معیشت بیرونی قرضوں، عالمی مالیاتی اداروں اور روایتی بینکاری نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ لہٰذا 2027 تک ملک کو سود سے پاک بنانے کی کاوش ایک قابلِ تحسین ہدف تو ہے، مگر اس کے لیے جامع پالیسی ہم آہنگی، قانونی اصلاحات، اسلامی فنانس ماہرین کی تربیت اور متبادل مالیاتی آلات کی وسیع دستیابی ضروری ہوگی۔ اگر یہ اقدامات صرف کاغذی رہ گئے تو مارکیٹ میں ابہام اور سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا ہوسکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سود کی بلند شرح نے پہلے ہی صنعت، زراعت اور ایس ایم ای سیکٹر کو مشکلات سے دوچار کیا ہوا ہے۔ ایسے میں اسلامی مالیاتی ڈھانچے کی توسیع ایک متوازن راستہ فراہم کر سکتی ہے، بشرطیکہ اسے محض علامتی اقدام کے بجائے عملی معاشی حکمت عملی کے طور پر نافذ کیا جائے۔ حکومت اور ریگولیٹرز کو چاہیے کہ وہ اسلامی فنانسنگ کے سستے اور قابلِ رسائی ماڈلز متعارف کرائیں تاکہ کاروبار اور عام سرمایہ کار دونوں اس نظام سے فائدہ اٹھا سکیں۔
بالآخر، ربافری معیشت کا خواب اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب اسے معاشی استحکام، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ساتھ جوڑا جائے۔ اگر پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو یہ اقدام نہ صرف دینی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا بلکہ پاکستان کی مالیاتی خودمختاری اور پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں