ملک ایک بار پھر آٹے کے شدید بحران کی لپیٹ میں ہے اور اس بحران کی جڑیں 2025 میں پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں، بیوروکریسی کی رکاوٹوں اور گندم مافیا کی منظم لوٹ مار میں پیوست ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جس ملک میں گندم وافر پیدا ہوتی ہے، وہاں آج عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہے۔
2025 میں پنجاب حکومت نے گندم کی سرکاری خریداری نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا وہ آج قومی معیشت اور عوام کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے۔ اگرچہ سرکاری ریٹ 3900 روپے فی من مقرر کیا گیا، مگر یہ محض کاغذی اعلان ثابت ہوا۔ عملی طور پر کسانوں سے گندم 2000 سے 2200 روپے فی من اونے پونے داموں خرید لی گئی۔ یوں کسان کی محنت لٹ گئی اور گندم مافیا نے سستا مال سمیٹ کر منافع کی بنیاد رکھ لی۔
صورتحال مزید سنگین اس وقت ہوئی جب ایک عالمی کمپنی نے ملک بھر سے گندم خرید کر ذخیرہ کر لی۔ اس عمل نے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کی اور قیمتوں کو پر لگ گئے۔ دوسری جانب بیوروکریسی نے سرکاری خریداری کے عمل میں دانستہ رکاوٹیں ڈالیں، غلط اعداد و شمار پیش کیے گئے اور زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی اور مافیا پورے نظام کو یرغمال بنا گیا۔
روزنامہ قوم اپنی رپورٹس میں پہلے ہی گندم بحران کے خدشات ظاہر کر چکا تھا، مگر متعلقہ اداروں نے حسبِ روایت آنکھیں بند رکھیں۔ آج اس غفلت کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ حالیہ ایک ہفتے کے دوران آٹے کے 20 کلو کے تھیلے میں 590 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کسی معاشی ایمرجنسی سے کم نہیں۔
وفاقی ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق اسلام آباد میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 2893 روپے 33 پیسے تک پہنچ گئی جو ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ راولپنڈی میں یہ قیمت 2866 روپے، پشاور میں 2850، بنوں میں 2800، کوئٹہ میں 2660 اور کراچی میں 2600 روپے تک جا پہنچی ہے۔ سرگودھا، ملتان، بہاولپور، خضدار اور دیگر شہروں میں بھی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بحران پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔
یہ محض آٹے کی قیمتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی رٹ، پالیسی سازی اور حکمرانی پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر حکومت نے بروقت گندم خریداری کی ہوتی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہوتی اور کسان کو اس کی محنت کا جائز معاوضہ دیا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
اب بھی وقت ہے کہ حکومت خوابِ غفلت سے بیدار ہو۔ گندم مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، ذخیرہ شدہ گندم کی مارکیٹ میں فراہمی، کسان دوست پالیسی اور شفاف ڈیٹا کے بغیر یہ بحران ختم نہیں ہوگا۔ بصورتِ دیگر آٹا بحران محض معاشی نہیں بلکہ سماجی بے چینی اور عوامی غصے کا پیش خیمہ بن جائے گا۔







