آلو کیلئے بھی گندم پلان، کولڈ سٹوریج میں ذخیرہ، 10 روپے کلو خرید کر 100 میں بیچنے کا منصوبہ

ملتان (زین العابدین سے)ذخیرہ اندوزمافیانے آلوکیلئے بھی گندم خریداری جیساپلان بنا لیا ، کو لڈ سٹوریج میں ذخیرہ اندوزی تیز ہو گئی ،10 ر و پے کلوخریدکر100میں بیچنےکامنصوبہ تیارکرلیا۔ملتان میں آلو سستا، منصوبہ مہنگا، ذخیرہ اندوز سرگرم، کولڈ سٹوریجز سے خفیہ ڈیلز، فوڈ اتھارٹی خاموش،قوانین اور SOPs کی دھجیاں اڑا دی گئیں، تفصیل کے مطابق ملتان کی سبزی منڈی میں نیا آلو10روپے فی کلو تک سستا ہوکرآہستہ آہستہ 15روپے کلواوراب 20روپے کلوہو چکا ہے اسکےپس پردہ ذخیرہ اندوزوں کی ایک نئی حکمت عملی تیزی سے فعال ہو چکی ہے۔ذرائع کے مطابق چند بااثر تاجر اور کولڈ سٹوریج مالکان نے خفیہ معاہدوں کے ذریعے ٹنوں کے حساب سے نیا آلو ذخیرہ کرنے کا پلان تیار کر لیا ہے تاکہ آنے والے مہینوں میں مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں کئی گنا بڑھائی جا سکیں۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ جیسے ہی نیا آلو “چھلکا پکنے” کے مرحلے پر پہنچے گا، یہی گروہ بڑی مقدار میں خریداری شروع کر دے گا۔ کولڈسٹوریج مالکان نے پہلے ہی فی 50 کلو بوری کا ماہانہ کرایہ 100 روپے طے کر رکھا ہے اورسٹوریج کی جگہ مخصوص تاجروں کے لیے مختص کر دی گئی ہے۔منڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کوئی تاجر 3 ٹن (3ہزارکلو) آلو 20 روپے فی کلو کے حساب سے خرید کر آٹھ ماہ کے لیے سٹور کرتا ہے تو اس پر تقریباً 1,08,000 روپے خرچ آتا ہےجس میں کولڈ سٹوریج کرایہ بھی شامل ہے۔اگر 8 ماہ بعد یہی آلو منڈی میں 80 سے 100 روپے فی کلو میں فروخت ہوتا ہے تو تاجر کو ایک لاکھ سے دو لاکھ روپے تک ناجائز منافع حاصل ہو گا۔اسی طریقے سے بڑے ذخیرہ اندوز 50 سے 100 ٹن آلو ذخیرہ کر کے کروڑوں روپے کی کمائی کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔کولڈ سٹوریجز کے لیے فوڈ اتھارٹی کی جانب سے واضح ایس او پیز موجود ہیں جن کے مطابق ہرسٹوریج مرکز کودرجۂ حرارت کا ریکارڈ برقرار رکھنا،روزانہ کا لاگ بک بنانا،بیچ نمبر اور تاریخ درج کرنا،اور ہر آئٹم کےسٹاک کی معلومات متعلقہ حکام کو دینا لازمی ہے۔تاہم ذرائع کے مطابق عملی صورت اس کے برعکس ہے۔بیشتر کولڈسٹوریجز میں نہ تو درجہ حرارت کے لاگز محفوظ کیے جا رہے ہیں، نہ بیچ نمبر درج ہوتا ہے، اور نہ ہی آلو کی مقدار کا اندراج درست رکھا جاتا ہے۔کئی مقامات پر جعلی لاگز تیار کیے جاتے ہیں، تاکہ حکام کے چھاپوں کے وقت کاغذی کارروائی درست نظر آئے۔ذرائع نے بتایا کہ بعض کولڈسٹوریج مالکان فوڈ اتھارٹی کے چھاپوں سے قبل سٹاک باہر منتقل کر دیتے ہیں یا کنٹینرز تبدیل کر لیتے ہیں، جس سے اصل مالیت چھپ جاتی ہے۔ضلعی فوڈ اتھارٹی اور مارکیٹ کمیٹی کی ٹیموں کو تاحال اس ذخیرہ اندوزی کی کسی سرگرمی کی خبر نہیں۔منڈی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ’’یہ کھیل ہر سال اسی طرح ہوتا ہے۔ نیا آلو آتے ہی مخصوص گروہ کم قیمت پر خریداری کر کے کولڈ سٹوریج میں بند کر دیتے ہیں، پھر چند مہینے بعد یہی آلو تین گنا قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔”ایک آڑھتی نے’’ قوم‘‘ کو بتایا کہ“اس وقت آلو 20 روپے کلو ہے، مگر دو مہینے بعد یہی آلو 100 روپے کا بیچا جائے گا۔فوڈ اتھارٹی اس وقت کارروائی کرے گی جب عوام کی جیب خالی ہو چکی ہو گی۔‘‘ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے سے غذائی سپلائی چین میں شفافیت ختم ہو چکی ہے، جس کا فائدہ صرف چند تاجر اٹھا رہے ہیں، اور نقصان عام صارف کو پہنچ رہا ہے۔شہری حلقوں نے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بروقت چھاپے نہ مارے گئے تو آئندہ مہینوں میں آلو کی قیمت چار گنا تک بڑھ سکتی ہے۔خریداروں کا کہنا ہے کہ “غریب عوام کے لیے آلو روزمرہ خوراک کا حصہ ہے، اگر یہ 100 روپے کلو تک پہنچ گیا تو دال، سبزی اور سالن سب پہنچ سے باہر ہو جائیں گے۔دکانداروں اور سماجی تنظیموں نے کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر، فوڈ اتھارٹی اور مارکیٹ کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منڈیوں اور کولڈ اسٹوریجز پر فوری چھاپے ماریں، اسٹاک رجسٹر چیک کریں، اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدام نہ کیا گیا تو آلو کی موجودہ سستی عوام کے لیے آنے والے مہینوں میں ایک نیا مہنگائی کا طوفان بن جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں