ملتان(اشرف سعیدی) مریم نواز آسان قرضہ سکیم اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کروڑوں کی کرپشن میں ملوث قاسم عرف کاشی کو ایف آئی اے نے گرفتار کر لیا جو کہ فاروق ونجارہ کی گرفتاری کے بعد روپوش تھا اور روزانہ موبائل سم تبدیل کرکے ٹک ٹاک پر اپنی عدم گرفتاری پر سیف آئی اے کا مزاق اڑاتا تھا۔ گزشتہ روز تھانہ صدر پولیس نے اعلی حکام کی ھدائیت پر کاشی کے گھر ریڈ کیا جہاں سے کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا تاہم کہروڑپکا کے ایک بااثر سابق چیرمین ضلع کونسل کی یقین دھانی پر گرفتار بے گناہوں کو رھا کر دیا گیا اور کاشی کی گرفتاری کی یقین دھانی کرائی گئی اور پھر چوبیس گھنٹے بعد ایف آئی اے ملتان کی ٹیم نے اسے گرفتار کر لیا۔ یاد رہے کہ روزنامہ قوم نے ایک ماہ پہلے جنوبی پنجاب میں ھونے والی بنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ہر تین ماہ ھونے والی چار کروڑ کی کریشن جبکہ پنجاب بنک میں بھی مبینہ طور پر 92 کروڑ کے فراڈ کا انکشاف کیا تھا اور مسلسل پندرہ دن تک ریکارڈ کے ساتھ بنک اور بنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اس کرپشن کی نشان دہی کی گئی۔ اس فراڈ میں بنک کے کئی اہکار شامل تھے اس طرح کئی حصے دار تھے اس چوبیس رکنی گینگ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ھو رہی تھی روز نامہ قوم کی طرف سے مسلسل توجہ دلانے پر قانونی ادارے حرکت میں آئے اور کاروائی شروع ھوئی۔ پورے جنوبی پنجاب میں یہ گروپ اس فراڈ میں مصروف عمل رھا ضلع لودھراں میں تو انتظامی افیسران بھی اس گروہ کے خلاف کاروائی سے گریزاں تھے اور درخواستوں کے باوجود قاسم عرف کاشی فاروق ونجارہ زییر احمد اکبر میو شہریار محمد ھاشم شامل تھے۔ فاروق ونجارہ کو ایف آئی اے لاھور نے گرفتار کیا جبکہ ملتان ایف آئی اے نے بھی چھ افراد کو گرفتار کیا تھا لیکن قاسم اور زبیر گرفت میں نہیں آ رہے تھے جبکہ ابھی تک زیبر فرار ھے جبکہ قاسم عرف کاشی گرفتار ھو چکا ھے قاسم عرف کاشی کے پاس دس ایسی ڈیواسزز تھیں جن کی لوکیشن بنک عملہ کی مدد سے توڑی گئی اور جعلی فنگر پرنٹ بنائے گیے تھے جس کے ذریعے ہر تین ماہ کروڑوں روپے نکالے جاتے اور یہ رقم بنک عملہ صحافیوں اور کئی سیاست دانوں کو بھی تقسیم کی جاتی تھی کاشی اس سے پہلے حبیب بنک سے حاصل کردہ فرنچائزز ڈیواسزز سے جعلی فنگر پرنٹ کے استمعال کے بعد بلیک لسٹ تھا مگر بعد ازاں الفلاح بنک سے فرنچائزرلیکر ڈیوسزز حاصل کیں جب روزنامہ قوم نے نشان دہی کی اس پر بنک کے ایک آفیسر ارشد نامی کو نہ صرف معطل کیا گیا بلکہ اس کے خلاف انکواری بھی ھو رہی ھے۔ کاشی اپنے بھائی ھاشم دوست زبیر اور ہمایوں کے نام پر ڈیواسزز چلا رھا تھا اور ان ڈیوا سزز سے جو بھی بیوہ خواتین کی رقوم نکلتی وہ آوٹ آف لوکیشن کے ذریعے نکالی جاتی تھیں اس لوٹ مار کا سلسلہ عرصہ دو سال سے جاری تھا لوٹ مار کی رقم کی منتھلی تقسم کی وجہ سے اس گروہ کے خلاف کوئی ادارہ بھی انہیں پکڑنے کیلیے تیار نہ تھا قاسم عرف کاشی کھلے عام بیان جاری کرتا کہ جنوبی پنجاب میں چلینج ھے کوئی گرفتار ھو تو اسے رہا کرا لیتا ھوں ھوا بھی ایسے جب چند ماہ پہلے سائیبر کرائم کی سابقہ ٹیم نے لودھران ریڈ کیا تو پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا جو ڈیواسزز چلا رہے تھے لیکن بعد ازاں صرف ایک کو جیل بھیجوایا گیا اب بھی قاسم عرف کاشی کا دعویٰ ھے کہ اس کی گرفتاری بھی مبینہ طور پر ایک ڈیل کا نتیجہ ھے مگر ایف آئی اے حکام کہنا ھے اب اسکے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کا عمل پورا کیا جائے گا۔ جنوبی پنجاب میں مالیاتی اداروں اور بنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں کا فراڈ اور لوٹ مار کرنے والوں کی سب سے پہلے نشان دہی روزنامہ قوم نے کی اور اس گروہ کے خلاف کامیاب کاروائی ھوئی یہ چوبیس افرادکسی کی گرفت میں نہ انے والے اربوں کے فراڈ میں ملوث چوبیس رکنی فراڈیوں کے نام اور ان کے خلاف کاروائی کا عمل قوم نے شروع کروایا فاروق ونجارہ اورقاسم عرف کاشی ساٹھ سے زائد ڈیواسزز چلارہے تھے جن میں سے پورے جنوبی پنجاب میں تیرہ ڈیواسزز ایسی تھیں جن کی لوکیشن توڑی گئی تھی جو سکھر لاڑ کانہ اور پشاور میں جاکر چلائی جاتیں تھیں کاشی کی رہائی کیلیے کوششیں جاری ہیں اس بڑے بڑے لوگوں کے نام انے کی توقع ھے اس گروہ کے فراڈ اوربنظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم سے حصہ لینے والوں کی تعداد بھی کافی ھے قوم کا۔ جہاد کامیاب رہا۔







