آج پہلا روزہ، شیطان قید، مہنگائی کا جن آزاد، گرانفروشی کی اجازت نہیں دینگے: پنجاب حکومت

ملتان،پشاور،رحیم یارخان،کوٹ سلطان،جام پور (نامہ نگار خصوصی،نمائندگان) رمضان المبارک 1447ہجری کا چاند نظر آگیا ۔آج پاکستان میں پہلا روزہ ہوگا۔شیطان کےقید ہونےکےباوجودمہنگائی کاجن آزادہوگیا،پنجاب حکومت نےکہاہےکہ گرانفروشی کی اجازت نہیں دینگے۔تفصیل کےمطابق رمضان المبارک 1447ہجری کا چاند نظر آگیا ۔آج پاکستان میں پہلا روزہ ہوگا۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں ہوا جس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے کی۔اجلاس میں ڈی جی وزارت مذہبی امورحافظ عبدالقدوس، سپارکو کے نمائندے شوکت اللہ، محکمہ موسمیات کے نمائندے ڈاکٹرحسن علی بیگ اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے زین العابدین شریک ہوئے۔پشاور کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور دیگر صوبائی دارالحکومتوں میں بھی زونل کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے۔ممبر مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی عتیق اللہ کے مطابق چاند دیکھنے کی 5 شہادتیں سب سے پہلے اپر دیر سے موصول ہوئیں، ضلع مہمند سے بھی 6 شہادتیں زونل رویت ہلال کمیٹی پشاور کو موصول ہوئیں۔مفتی عتیق اللہ کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو 40 شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے چاند نظر آنےکا اعلان کیاہے۔چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے اہل وطن کو رمضان کی آمدکی مبارک باد دی اور ماہ رمضان کا احترام کرنےکی تلقین کی اور اپیل کی کہ پاکستان اور عالم اسلام کے لیے دعا کریں۔ماہِ صیام کے آغاز سے ایک روز قبل ہی مہنگائی مافیا نے عوام پر حملہ بول دیا۔ پھل، سبزیاں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور ضلعی انتظامیہ حسبِ روایت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔شہر کی مختلف مارکیٹوں اور سبزی منڈیوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ سٹرابری کی فی کلو قیمت 1000 روپے تک جا پہنچی، انار 650 روپے، سیب 450 روپے اور امرود 220 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ کیلے 250 روپے درجن میں دستیاب ہیں جبکہ ادرک اور بھنڈی دونوں 350 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہے ہیں۔ لہسن کی قیمت بھی 650 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس نے شہریوں کے بجٹ کو مزید ہلا کر رکھ دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی رمضان المبارک سے قبل ہی ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں کے نرخ نامے برائے نام رہ گئے ہیں، جبکہ منڈیوں میں کسی قسم کی مؤثر نگرانی نظر نہیں آتی۔ دکاندار اپنی من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں اور صارفین بے بسی کے عالم میں خاموش خریداری پر مجبور ہیں۔خواتین خریداروں نے شکایت کی کہ حکومت ہر سال رمضان بازاروں اور کنٹرولڈ پرائس پالیسی کے اعلانات کرتی ہے، مگر ان پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ایک خاتون نے کہا، “روزہ تو عبادت ہے، مگر اس سے پہلے ہی بازار کا چکر کاٹنا امتحان بن جاتا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کے ریٹ سن کر روزہ رکھنے کی سکت کم ہو جاتی ہے۔”ادھر تاجروں کا مؤقف ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ تھوک منڈیوں میں نرخ بڑھنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹ لاگت، پٹرول کی قیمتیں اور درآمدی اشیاء کے نرخ بڑھنے سے فرق پڑا ہے۔ تاہم شہری حلقے اس وضاحت کو محض بہانہ قرار دیتے ہیں۔انتظامی ذرائع کے مطابق ضلعی سطح پر کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں اور گرانفروشی کے خلاف کارروائی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق ان بیانات کی تردید کرتے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوںحسن پروانہ، گلگشت، چوک کمہارانوالہ، نیو ملتان اور وہاڑی روڈمیں اشیاء کے نرخ سرکاری فہرست سے 30 سے 70 فیصد زیادہ وصول کیے جا رہے ہیں۔شہریوں نے چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ماہِ صیام کے دوران عوام کو کچھ ریلیف میسر آ سکے۔ رحیم یارخان سےبیورو رپورٹ کےمطابق سٹے باز اور ذخیرہ اندوز مافیا اور فلور ملرز گارڈ فادرز نے 2200 روپے فی من گندم خرید کر رواں سال 5ہزار روپے فی من تک سندھ،کے پی کے اور بلوچستان میں فروخت کرکے کروڑوں اربوں روپے کمائے جس کے بعد سبزی منڈیوں کے آڑھتیوں نے بھی لاکھوں کروڑوں روپے کمانے کیلئے اپر پنجاب،سندھ اور بلوچستان کے علاقوں سے”آف سیزن”میں سینکڑوں من آلو اونے پونے داموں 7 سے 8 روپے فی کلو کے حساب سے خرید کر رحیم یارخان شہر کے کولڈ سٹوروں میں سٹاک کرلیا تھا،ذرائع کے مطابق سبزی منڈی کے بڑے آڑھتیوں نے رمضان المبارک میں”عید”کمانے کیلئے صوبہ سندھ اور اپر پنجاب کے آلو کے کاشتکاروں سے لال آلو،سفید آلو سینکڑوں ٹن کے حساب سے خرید کرکے سبزیوں منڈیوں کے دکانوں،کولڈ سٹوروں اور خفیہ مقامات پر سٹاک کرلیا ہے اور مہنگے داموں فروخت کرنے کیلئے ضلع بھر میں اپنا جال بچھا دیا ہے،ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز شہباز پور روڈ پر پرانی سبزی اور نیو انڈسٹریل ایریا کی نئی سبزی منڈی میں آلو 20 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوا جو گرانفروشوں نے منوں کے حساب سے خرید کرلیا ہے،ذرائع کے مطابق 20 روپے فی کلو منڈی سے خریدا گیا آلو اوپن مارکیٹ میں 30 سے 40 روپے کے خود ساختہ اضافہ کیساتھ 50 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔آلو واحد سبزی ہے جو ہر گھر کی ضرورت ہے جس سے سموسے پکوڑے،دہی بڑے بننے کیساتھ ساتھ یہ چنا چارٹ،آلو چارٹ،سمیت دیگر سبزیوں میں استعمال ہوتا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے”مافیا”نے آلو کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کردیا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے رمضان المبارک میں پنجاب کی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے جو دعوے کئے تھے وہ ضلع رحیم یارخان میں یکم رمضان المبارک کو ہی ٹھس ہوگئے ہیں مارکیٹ میں آلو اور پیاز کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کرکے غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے جبکہ ذخیرہ اندوز،منافع خور اور گرانفروش مافیا نے شیطان کا روپ دھارتے ہوئے سرکاری ریٹ لسٹوں پر عملدرآمد کرنے کی بجائے خود ساختہ نرخوں پر سبزیوں اور پھلوں کی فروخت شروع کر کررکھی ہے سبزی منڈی میں خریداری کیلئے آنیوالے صارفین کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے خود ساختہ مہنگائی کرنیوالوں کیخلاف کاروائیاں نہ کی تو پھر ماہ صیام میں غریب کی سبزی آلو کی قیمت 100 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری ریٹ لسٹوں پر عملدرآمد کرانے کیلئے پیرا فورس،پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور مارکیٹ کمیٹی کے نمائندگان فیلڈ میں موجود ہیں،عوام خود ساختہ مہنگائی کی فوری اطلاع کرے تو کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔جام پور سےتحصیل رپورٹر کےمطابق راجن پور اور گردونواح میں پھل سبزیوں اور گوشت کی قیمتوں کو پر لگ گئے برئلر مرغی کا گوشت 450روپے کی بجائے 650جبکہ بعض قصبات فاضل پور محمد پور دیوان جام پور داجل کوٹلہ مغلاں سمیت دیگر قصبات میں یہی مرغی کا گوشت 700روپےمیں فروخت ہونے لگا جبکہ ایسی طرح بڑا گوشت 1200روپےسے1400سوروپےمیں فروخت ہونے لگا جبکہ بکرے کا گوشت عام عوام کے لیے کھانا خواب بن چکا ہے علاوہ ازیں پھل سبزیاں جو چند روز پہلے معقول قیمتیں تھی تاہم رمضان المبارک قریب آتے ہی پھل سبزیوں کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔کوٹ سلطان سےنامہ نگار کےمطابق رمضان المبارک کی آمد سے قبل شہر کی منڈیوں میں پھلوں کی اونچی اڑان ، مختلف پھل 50 سے 100 فیصد تک مہنگے ہو جانے کے باعث شہری شدید پریشانی اور مالی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں ،رمضان قریب آتے ہی خریداری کے رجحان میں تیزی آ گئی ہے اور منڈیوں و بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھنا شروع ہو گیا ہے تاہم اسی کے ساتھ قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے،کیلا، سیب، امرود، اسٹرابیری سمیت دیگر موسمی پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ،کئی پھلوں کی قیمتیں گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں مبینہ طور پر دوگنا تک پہنچ چکی ہیں جس سے متوسط اور دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں مزمل شریف ، عصمت اللہ ،وزیر خان ،محمد اویس ،غلام محمد و دیگر کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں پہلے ہی اشیائے خوردونوش، یوٹیلیٹی بلز اور دیگر گھریلو اخراجات بڑھ جاتے ہیں، ایسے میں پھلوں کی بڑھتی قیمتیں گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔ادھر وفاقی وزیرتوانائی اویس لغاری نے رمضان المبارک میں سحرو افطار کے دوران بجلی کی بلاتعطل فراہمی کا حکم دیا ہے۔اویس لغاری نے پاور ڈویژن کے زیادہ نقصانات والے علاقوں میں بھی سحروافطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔وفاقی وزیرپاورکاکہنا تھا کہ لوڈمینجمنٹ سحر و افطار کے علاوہ اوقات میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔دوسری جانب سوئی سدرن اور سوئی سدرن کا رمضان میں صبح 3 بجے سے رات 10:30بجے تک گیس فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ادھر وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران کسی کو گراں فروشی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد کرائے گی۔ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وعدے کے مطابق مستحق افراد کو ان کا حق دہلیز پر فراہم کیا جا رہا ہے، نگہبان رمضان پیکج کے تحت 40 لاکھ سے زائد خاندانوں کو فی خاندان 10 ہزار روپے فراہم کیے جا رہے ہیں اور نگہبان رمضان کارڈز گھروں تک پہنچائے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا ہے کہ 10 مارچ تک تمام مستحق خاندانوں کو کارڈز کی ترسیل مکمل کر دی جائے گی جبکہ کارڈ پر نہ کوئی چارجز ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا پن کوڈ رکھا گیا ہے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ہر تحصیل میںمریم کے مہمان دسترخوان کے تحت روزانہ دو ہزار افراد کو افطاری کرائی جائے گی اور مخیر حضرات کو حکومت کی جانب سے مکمل معاونت فراہم کی جائے گی، اگر کوئی مستحق خاندان رہ جائے تو وہ ہیلپ لائن نمبر 1000 پر رابطہ کر سکتا ہے، پنجاب حکومت قوانین پر عملدرآمد کرانا جانتی ہے اور رمضان میں گراں فروشی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔سلمیٰ بٹ کا کہنا تھا کہ رمضان سہولت بازاروں میں چینی 140 روپے فی کلو دستیاب ہو گی جبکہ اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت 160 روپے ہے، اسی طرح مرغی کا گوشت 15 روپے کم اور فی درجن انڈے 10 روپے کم نرخ پر فراہم کیے جائیں گے جبکہ 10 کلو آٹے کا سبز تھیلا 1550 پوائنٹس پر دستیاب ہو گا اور روزانہ مارکیٹ میں 15 لاکھ آٹے کے تھیلے بھجوائے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں