آئی یو بی ،بڑوں کو چھوٹ پر نچلا عملہ بھی بے لگا م ،کلرک منشیات سپلائر ،مقدمات کے باوجود ڈیوٹی جاری

ملتان ( سٹاف رپورٹر) بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی میں پروفیسر ابوبکر کی منشیات برآمدگی اور اخلاقی باختگی کے درجنوں ثبوتوں اور موبائل فرانزک میں غلاظت بھری آڈیوز، ویڈیوز اور میسجز کے باوجود تفتیش میں بریت کی سہولت ملنے کے بعد یونیورسٹی کے کونے کھدروں میں چھپے اوباش پھر سے سر اٹھا چکے ہیں اور اسلامیہ یونیورسٹی کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں شمشاد نامی سینئر کلرک بارے منشیات اور ڈانسنگ پلز کی فروخت میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔شمشاد ولد اللہ بخش کے خلاف تین مقدمات بہاولپور کے مختلف تھانوں میں درج ہیں اور پولیس ریکارڈمینجمنٹ سسٹم سے تصدیق ہوئی ہے کہ شمشاد پر 2017 میں مقدمہ نمبر 278/17 بجرم 3/4 امتناع منشیات تھانہ صدر بہاولپور، جبکہ تھانہ کینٹ میں مقدمہ نمبر 549/20 بجرم 3/4 امتناع منشیات اور تھانہ صدر میں مقدمہ نمبر 776/20 بھی بجرم 3/4 امتناع منشیات ہی کی دفعات کے تحت درج کئے گئے ہیں۔ پولیس کی جانب سے جسکی رپورٹ بھی سابقہ وی سی ڈاکٹر اطہر محبوب کو دی گئی مگر سابق وائس چانسلر نے نہ اس کا نوٹس لیا اور نہ ہی شمشاد نامی ملازم کو معطل کیا گیا حالانکہ قانون کے مطابق اخلاقی جرائم میں ملوث یونیورسٹی ملازمین کے خلاف سخت کارروائی ہوتی ہے اور انکا یونیورسٹی میں داخلہ بھی روک دیا جاتا ہے جبکہ شمشاد نامی ملازم آج بھی ڈیوٹی پر موجود ہے۔ شمشاد بارے مزید معلومات کے مطابق یہ خود تو منشیات جیسے گھناؤنے دھندے میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا بھائی سرفراز سکھیرا بھی بڑے پیمانے پر منشیات کی سپلائی میں ملوث ہے اور اپنے بھائی شمشاد اور بیٹوں کی مدد سے منشیات کا ایک وسیع نیٹ ورک چلا رہا ہے۔جنکے خلاف پولیس متعدد مرتبہ کارروائی کرنے کے باوجود یہ لوگ منشیات جیسا مکروہ دھندہ کرکے نوجوانوں کو منشیات جیسی لت میں مبتلا کرنے میں مصروف ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی کا منشیات فروش سینئر کلرک شمشاد جس پر منشیات فروشی کے تین مقدمات درج ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں