پاکستان نے اقوام متحدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی بھرپور حمایت کر دی

نیویارک: غزہ کی تباہ حال گلیوں سے اٹھتے دھوئیں اور فلسطینی بچوں کی خوفزدہ آنکھیں دنیا کے ضمیر کو آج بھی جھنجھوڑ رہی ہیں۔
ایسی صورتحال میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اسے امن کے قیام کے لیے ایک نایاب موقع قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
عاصم افتخار جو پہلے ہی اسرائیلی نمائندے کے ساتھ غزہ کی انسانی المیے پر شدید بحث میں مشہور ہیں، نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا ووٹ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے حق میں اس لیے دیا گیا تاکہ فلسطینیوں کے قتل عام کو روکا جا سکے اور اسرائیلی فورسز کے مکمل انخلا کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ غزہ میں امن کے قیام کے لیے مثبت اور عملی اقدام ہے، جہاں اب تک 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
پاکستان نے مذاکرات کے دوران عرب لیگ اور او آئی سی کے تجاویز کی حمایت کرتے ہوئے اپنی سفارشات بھی شامل کیں، جن میں 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کے قیام کو مرکزی اہمیت دی گئی۔
عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں القدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ یہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ فلسطینی شناخت کی روح ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے قرارداد کو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔ اس قرارداد کے حق میں پاکستان سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ کسی بھی ملک نے مخالفت نہیں کی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں