پابندی پاؤں تلے، اسلامیہ یونیورسٹی میں طالبات کا انڈین گانوں پر رقص، انتظامیہ تماشائی

بہاولپور ( قوم ریسرچ سیل) پاک بھارت کشیدگی کے بعد حکومت پنجاب نے سٹیج ڈراموں سمیت مختلف سرکاری پروگراموں میں بھارتی گانوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور مختلف ویجی لنس ٹیمیں انڈین گانے چلانے والوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف مگر بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی میں ان اقدامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی اسوقت سامنے آئی جب پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ ڈین فیکلٹی آف فزیکل اینڈ میتھیمیٹیکل سائنس کی زیر نگرانی کلچرل بھنگڑا/ٹیبلو پارٹی کے انعقاد کیا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں حکومت پنجاب کی ڈانس پر سخت پابندی کے باوجود کس طرح باپردہ خواتین طلبا اساتذہ اور والدین اور دیگر مردوں کی موجودگی میں انڈین گانے ’’سویگ سے کریں گے سب کا سواگت‘‘پر کلچرل ٹیبلو بھنگڑے ڈال رہی ہیں جبکہ سماجی حلقوں کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی کا نام تو اسلام کے نام پہ ہے پر اندر اسلامیہ یونیورسٹی میں اسلام کی ثقافت کو پس پشت ڈالنے کی کوشش جاری ہیں۔ گزشتہ چند روز قبل ہونے والے ایونٹ کی ویڈیو میں انڈین فلمی گانے پر پرفارم کروا کر اسلام کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کیا یہ ہماری ثقافت ہے کیا ہماری یہ دین کا حصہ ہے کہ ہم اپنی بچیوں کو اس طرح نچائیں /یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے غیر شرعی اقدامات کو دیکھتے ہوئے کوئی ماں باپ اپنی بچیوں کو اس ادارے میں بھیجنا پسند نہیں کرتا کیونکہ گزشتہ کچھ سال پہلے بھی ایک کارنامہ سر انجام ہوا جس کے باعث کافی سارے خاندانوں نے اپنی بچیوں کو اس جامعہ کے اندر بھیجنا بند کر دیا اب نئے وائس چانسلر کو ماموں بنا کر اس یونیورسٹی کا بھٹہ بٹھانے والی لابی پھر فعال ہو کر وائس چانسلر کی خوشامد کرتے ہو ئےاسی مشن پر گامزن ہے اور اب پہلے کی طرح کے پھر واقعات سامنے آئیں گے تو کون اپنی بچیوں کو اس جامعہ کے اندر بھیجے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں