ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں انتظامی امور شدید بحران کا شکار ہوگئے ہیں، جہاں ایک کے بعد ایک ٹیچر انچارج اپنی تقرری سے انکار کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کسی بھی فیکلٹی ممبر کی 3 مشکوک تاریخ پیدائش رکھنے والی عارضی و غیر قانونی وائس چانسلر اور عارضی رجسٹرار کے ماتحت کام کرنے میں دلچسپی نہیں رہی۔6 اکتوبر 2025 کو عارضی وائس چانسلر کی جانب سے جاری کیے گئے دفتر حکم نامے کے تحت ڈاکٹر شازیہ پروین اسسٹنٹ پروفیسر زوالوجی (BPS-19)کو بطور’’ٹیچر انچارج‘‘ تعینات کیا گیا۔ تاہم ان کی جانب سے 13 اکتوبر 2025 کو رپورٹ کیا گیا کہ سابق انچارج ڈاکٹر آسیہ بی بی نے دفتر کا چارج دینے سے انکار کردیا ہے اور اپنے پاس متعدد ریکارڈ فائلز رکھ لی ہیںجس سے شعبہ کے انتظامی امور مفلوج ہو چکے ہیں۔ 15 اکتوبر 2025 کو عارضی و غیر قانونی وائس چانسلر نے ایک نیا حکم جاری کرتے ہوئے بائیو ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مریم زین کو بطور ٹیچر انچارج مقرر کیا، تاہم انہوں نے بھی ذمہ داریاں سنبھالنے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر حِرا مقدس کو یہ چارج دیا گیامگر انہوں نے بھی انکار کر دیا۔ 10 نومبر 2025 کو رجسٹرار آفس کی جانب سے ڈاکٹر حِرا مقدس کو ایک مراسلہ جاری کیا گیا جس میں ان کے انکار کو ’’غیر تعمیلی طرزِ عمل‘‘قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا گیا کہ یہ اقدام پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ 2006 کے تحت تادیبی کارروائی کے زمرے میں آتا ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامی معاملات میں بڑھتی ہوئی بے یقینی، عملے میں عدم اعتماد اور قیادت کے ساتھ مسلسل اختلافات کی وجہ سے کوئی بھی ٹیچر انتظامی ذمہ داری سنبھالنے پر آمادہ نہیں۔ فیکلٹی اراکین نے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ تدریسی اور انتظامی نظام کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ یاد رہے کہ ٹیچر انچارجز کی تعیناتی کے لیے جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس میں ٹیچر انچارجز کی تعیناتی ویمن یونیورسٹی ملتان کے سٹیچو 2023 ڈیپارٹمنٹ کے چیئر پرسن کی تعیناتی کے سیکشن تھری سب سیکشن ٹو کے مطابق کی گئی جبکہ حقیقتاً خواتین یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ میں ٹیچر انچارجز کی کوئی اصطلاح موجود ہی نہ ہے اور ویمن یونیورسٹی ملتان کے سٹیچو 2023 ڈیپارٹمنٹ کے چیئر پرسن کی تعیناتی کے سیکشن تھری سب سیکشن ٹو کے مطابق چیئرپرسن کا تقرر سنڈیکیٹ کی جانب سے وائس چانسلر کی سفارش پرمتعلقہ الحاقی کالج، شعبہ یا ادارے کے تین سب سے سینئر پروفیسروں میں سے کسی ایک کے طور پر تین سال کی مدت کے لیے کیا جائے گا اور اسے دوبارہ تقرری کے لیے اہل سمجھا جائے گا۔ تاہم اگر کسی الحاق شدہ کالج، شعبہ یا ادارے میں کوئی پروفیسر موجود نہ ہو تو تقرری متعلقہ الحاق شدہ کالج، شعبہ یا ادارے کے تین سب سے سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسروں میں سے کسی ایک سے کی جائے گی: بشرطِ یہ کہ اگر کسی الحاق شدہ کالج، شعبہ یا ادارے میں نہ کوئی پروفیسر ہو اور نہ ہی کوئی ایسوسی ایٹ پروفیسر، تو ایسی صورت میں کوئی تقرری نہیں کی جائے گی اور اس الحاق شدہ کالج، شعبہ یا ادارے کے انتظامی امور کی دیکھ بھال فیکلٹی کے ڈین کی جانب سے، متعلقہ الحاقی کالج، شعبہ یا ادارے کے سب سے سینئر استاد کی مدد سے کی جائے گی۔ چنانچہ اس بارے ٹیچر انچارجز کی تعیناتیاں بھی غیر قانونی ہیں اور غیر قانونی وائس چانسلر کی ہم خیال نئی تعینات ہونے والی عارضی رجسٹرار کی جانب سے ٹیچر انچارج کے طور پر تعیناتی کو قبول نہ کرنے پر خواتین ٹیچرز کو پیڈا انکوائری کی دھمکیاں دینا نہایت ہی افسوس ناک امر ہے اور یہ بھی ہراسمنٹ کے ذمرے میں آتا ہے۔








