ملتان(واثق رؤف)واسا کی تاریخ کا بڑا فراڈ ،ٹرانسفارمر خریدے گئے نہ ہی مرمت ہوئے3کروڑ42لاکھ4ہزار روپے(34اعشاریہ204ملین)کی ٹھیکیدار کو نہ صرف ادائیگی کردی گئی بلکہ 1سال8ماہ کےبعدپرفارمنس سکیورٹی فیس جوکہ لاکھوں روپے بنتی ہےوہ بھی واپس کردی گئی۔ذرائع کےمطابق15جون2021ءکوٹینڈرجاری ہوئے جبکہ17جون2021ءکو ٹھیکیدار کو رقم بھی ادا کر دی گئی۔اینٹی کرپشن اور ایم ڈی اے حکام کی بھی کمال مہربانی،4سال سے زائد عرصہ گزر گیا انکوائری ہی مکمل نہ ہوسکی۔ٹینڈر کمیٹی کے ایک ممبر باعزت ریٹائرڈ ہوکر گھر بھی چلے گئے۔ذرائع کے مطابق15جون2021ء کو واسا ملتان کے پورے واٹرسپلائی سسٹم کو اپ گریڈ کرنے اور واٹر سپلائی سسٹم میں ٹرانسفارمر فلیئر جیسے مسائل کے مستقل حل کے لئے15نئےٹرانسفارمرز خریدنے جبکہ پہلے سے موجود30ٹرانسفارمرز مرمت و اپ گریڈ کرنے کے لئے34اعشاریہ204ملین کےٹینڈر جاری کئےگئے تھے۔ٹینڈر کمیٹی میں اس وقت کے ڈائریکٹرانجینئرنگ عبدالسلام،ایس ڈی او شہزادہ عالمگیر شامل تھے ۔ٹینڈر کمیٹی کے تیسرے ممبر ڈپٹی ڈائریکٹر انجینئرنگ کے عہدہ کا چارج بھی عبدالسلام ہی کے پاس تھا۔بتایا جاتا ہے کہ ٹینڈر الاٹمنٹ کے موقع پر زائد ریٹ دینے والی کمپنیوں کو مختلف اعتراضات عائد کرکے فارغ کردیا گیا اور ٹینڈر ایک ایسی کمپنی کے نام الاٹ کئے گئے جس کے پس پردہ کرتا دھرتا خود اس وقت ڈائریکٹر انجینئرنگ تھے۔ٹینڈر الاٹمنٹ کے صرف دو روز بعد ہی ٹینڈر حاصل کرنے والی کمپنی کو مکمل ادائیگی کردی گئی جبکہ کمپنی نے نہ تو کوئی ٹرانسفارمر خرید کیا اور نہ ہی کوئی ٹرانسفارمر مرمت کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار کی جانب سےفرضی طور پر ٹرانسفارمر خریداری ظاہر کی جمع کروائے گئے بلوں میں قواعد ضوابط کی سنگین خلاف ورزی جیسے جس ٹرانسفارمر کمپنی سے خریداری کی گئی اس کی طرف سے گیٹ پاس کا جاری نہ ہونا،ٹرانسفارمر کمپنی کی طرف سے سرٹیفکیٹ کا اجراءدیگر لوازمات ہی شامل نہیں کئے گئے۔خریداری کےعمل اور واسا کو ٹھیکیدار کی طرف سے جمع کروائےگئےبلوں میں قواعد ضوابط کی یہ خلاف وارزیوں پر سوالیہ نشان پیدا ہوتا ہے تاہم عوام کےٹیکسوں کے پیسےکےشفاف استعمال کو یقینی بنانے کے کوئی بھی ذمہ دار ان پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔بتایا جاتا ہے کہ خریداری کی اس لوٹ مار کی بابت ایک انکوائری محکمہ انٹی کرپشن جبکہ دوسری ایم ڈی اے میں گزشتہ کئی سالوں سے زیر التواہے۔باوجود اس کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجینئرنگ نے کمال مہربانی کرتے ہوئے ٹھیکیدار کی پرفارمنس سکیورٹی فیس جو مجموعی بولی کا5سے10فیصد ہوتی ہے واپس کردی جو لاکھوں روپے بنتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ایم ڈی اے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے،ڈائریکٹر ایڈمن اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن پر مشتمل کمیٹی نے مذکورہ فراڈ کی تحقیقات کرنا تھی تاہم دو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تحقیقات مکمل نہ ہوسکی ہیں۔اس صورتحال پر سیاسی،سماجی،حلقوں اور واسا ملازمین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری ہاؤسنگ،کمشنر،ڈپٹی کمشنر ملتان اور دیگر ذمہ دران سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔







