سول ملٹری ٹرائل کیس: غیر متعلقہ شخص پر فوجی قوانین کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟ آئینی بینچ کا سوال

سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن کی ازسرِ نو تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری

سائیسویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی ازسرِ نو تشکیل کر دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں اعلیٰ عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت کے بعد جسٹس جمال خان مندوخیل کو سپریم جوڈیشل کونسل کا نیا رکن نامزد کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق جسٹس عامر فاروق کو جوڈیشل کمیشن کا ممبر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل کو پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا بھی رکن بنایا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی کریں گے، جب کہ چیف جسٹس امین الدین خان کونسل کے دوسرے سینئر رکن ہوں گے۔ اس کے علاوہ جسٹس منیب اختر، جسٹس حسن رضوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی کونسل کا حصہ ہوں گے۔
جسٹس مندوخیل کی نامزدگی دونوں چیف جسٹس صاحبان کی باہمی مشاورت سے عمل میں آئی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں