ملتان(اشرف سعیدی)سی سی ڈی گجرات اور سی سی ڈی میلسی کا اشتراک، ربا اسڑ کو ہاف فرائی کر دیاگیا۔سی سی ڈی لودھراں نے ربا اسڑ کو تھانہ صدر میں درج مقدمات میں تفتیش کے لیے مانگ لیا۔ آج کل گرفتار ملزمان جو سنگین مقدمات میں اشتہاری ہیں، انہیں’’ہاف فرائی‘‘ کرنے اور ہمیشہ کے لیے جرم سے باز رہنے کی سزائوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ربا اسٹر کو گجرات سی سی ڈی نے گرفتار کر کے میلسی سی سی ڈی کے حوالے کر دیا تھا جو اسے لے کر میلسی آ رہے تھے۔ وہاڑی کے قریب اس کے ساتھیوں نے فائرنگ کی۔ اپنے ہی ساتھی کی گولی سے ربا اسڑ شدید زخمی ہو گیا، جسے’’ہاف فرائی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ربا اسڑ کو ہسپتال میں لایا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔دوسری طرف کہروڑپکا سی سی ڈی نے پندرہ مقدمات کے مطلوب ملزمان جو تھانہ صدر کہروڑ میں درج تھےاور جن میں ربا اسڑ، اس کا بھائی عمران اور دیگر ساتھی پولیس کو مطلوب تھے، اپنی تحویل میں لینے کے لیے رابطہ کیا۔ پتہ چلا ہے کہ اس گینگ کی نشان دہی پر میلسی پولیس نے300 کے قریب سولر پلیٹیں اور درجن کے قریب موٹر سائیکلیں اور رہزنی میں لوٹا گیا سامان برآمد کر لیا ہے۔ سی سی ڈی میلسی فورس ربا اسڑ کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ربا اسڑ کو زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا ہے۔ اسے بچانے کے لیے وہاڑی کی ایک بڑی سیاسی شخصیت کی سفارش پر معاملہ دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلےدرجنوں وارداتوں میں مطلوب گرفتار شوکت بھٹی کو بھی’’ہاف فرائی‘‘کیا گیا تھا جس نے دورانِ گرفتاری کروڑوں روپے کی ریکوری کروائی تھی۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شوکت بھٹی بھی ربا اسڑ گینگ کا حصہ تھا اور اسے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ربا اسڑجو پولیس سی سی ڈی میلسی کی تحویل میں ہے نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے ساتھی فیصل آباد سے جنوبی پنجاب میں وارداتیں کرتے تھے اور انہیں حصہ دیا جاتا تھا۔ جو ربا اسڑ فیصل آباد میں ڈکیتیاں کرتا، اس میں دوسرے ڈاکوؤں کو بھی حصہ دیا جاتا تھا۔ ربا اسڑ گینگ کی گرفتاری کے بعد، اس علاقے کے کئی منی جرائم پیشہ افراد اور ان کے سہولت کار پریشان ہیں، کیونکہ ربا اسڑ ان زمینداروں کو سولر پلیٹیں لا کر دیتا تھا جو بڑے رسہ گیر اپنے بنگلوں اور زمین سیراب کرنے کے لیے مرسیبل لگواتے تھے۔لودھراں، میلسی اور کہروڑ پکا کے دریائی علاقوں میں کروڑوں روپے کی چوری کی سولر پلیٹیں لگائی گئی ہیں جو ربا اسڑ نے فراہم کیں۔ ربا اسڑ کو پولیس مقابلے میں مارنے کی بجائے’’ہاف فرائی‘‘ کرنے کا مقصد تحقیقات کے دوران مزید جرائم پیشہ گروہوں کا پتہ چلانا ہے تاکہ خاموش وارداتوں کو بے نقاب کر کے ان کے کردار تک پہنچایا جا سکے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔جنوبی پنجاب کا یہ غیر معروف گینگ بڑی مشکل سے سی سی ڈی کی گرفت میں آیا، جس کے متعلق روزنامہ قوم نے اس کے ٹھکانوں کا گجرات میں ذکر کیا تھا اور سی سی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے اس گینگ کے دس افراد کو پکڑ کر قانون کے شکنجے میں جکڑ دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سی سی ڈی لوٹا ہوا مال متاثرین کو دینے سے انکاری ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے بعد سی سی ڈی بھی برآمد شدہ مال مالکان کو دینے سے گریز کر رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ڈاکوؤں سے برآمد مال مالکان تک پہنچایا جائے۔







