ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے کم تدریسی تجربے کے حامل وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کی ہدایات کے مطابق بچت کی آڑ میں تعلیمی کوالٹی کو کھڈے لائن لگاتے ہوئے آرکیٹیکچر انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے بعد مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں بھی انجینئرنگ ٹیچرز کو غیر متعلقہ مضامین پڑھانے پر مجبور کر دیا گیا۔ ایم ایس مکینیکل انجینئر و پی ایچ ڈی ایگریکلچر انجینئر ڈگریز رکھنے والے ڈاکٹر اخلاق احمد اسلامیات و عربی سے متعلقہ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھائیں گےجبکہ مکینیکل انجینئر ڈاکٹر شازیہ نور انگلش لینگویج کا مضمون پڑھائیں گی۔ اسی طرح مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں قرآن مجید کا ترجمہ 5th سمسٹر کو آرکیٹیکچر انجینئر ڈاکٹر شمزہ جمیل پڑھائیں گی جبکہ ملائیشیا سے پی ایچ ڈی کرنے والی مکینیکل انجینئر ڈاکٹر مستبشرہ گل شماریات کا مضمون پڑھائیں گی۔ اسی طرح مکینیکل انجینئر ڈاکٹر شازیہ نور کیمسٹری کا مضمون جبکہ چائنہ سے مکینکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر نوید حسین کمپیوٹر کا مضمون پڑھائیں گے جبکہ مکینکل انجینئرنگ ڈاکٹر مستبشرہ گل شماریات کے ساتھ ساتھ انگلش کا مضمون پڑھائیں گی۔ اسی طرح مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ساتویں سمسٹر میں آرکیٹیکچر انجینئر ڈاکٹر نوشین بلوچ قرآن مجید کا ترجمہ ، مکینکل انجینئر و پی ایچ ڈی ایگریکلچر انجینئر ڈاکٹر اخلاق احمد قرآن مجید کے ترجمے کے ساتھ ساتھ بزنس سٹڈیز کا مضمون انٹرپرینیورشپ جبکہ مکینکل انجنیئر محمد فاروق زمان انگلش کا مضمون پڑھائیں گے۔ جبکہ اس بارے میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے اسلامیات ڈیپارٹمنٹ کے سابقہ سربراہ و پروفیسر حافظ شہباز کا کہنا تھا کہ بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اسلامیات کے اساتذہ کی حق تلفی بند کرے اور تعلیمی کوالٹی میں اضافے کے بجائے کوالٹی کو گرایا جا رہا ہے کیونکہ ایک مضمون کا سپیشلائزڈ ٹیچر ہی وہ مضمون بہتر پڑھا سکتا ہے۔ اس بارے میں ایم فل و پی ایچ ڈی بے روزگار طلبا و طالبات نے روزنامہ قوم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے اسلامیات، عربی، کیمسٹری ، انگلش، کمپیوٹر، ریاضی جیسے مضامین انجینئرز سے پڑھوانے ہیں تو یہ ڈیپارٹمنٹس بند کر دیئے جائیں۔







