بہاولپور (کرائم سیل) ماموں نامی ذیشان الیکٹرا نک سٹور مالک نے کروڑوں روپے مالیت کی تاریخی ہندو عبادت گاہ ” قلعہ دھاری مندر” واقع اندرون سناروں والی گلی نزد مچھلی بازار بہاولپور پر سالہاسال سے ناجائز قبضہ کرکے مالی فائدہ اٹھایا اور وہاں پر موجود گورنمنٹ پرائمری سکول کو سال 2016 غنڈوں کی مدد سے ختم کروادیا مبینہ طور پر پرائمری سکول ٹیچر کو غنڈوں کی مدد سے ڈرا دھمکا کر سال بھگا دیا تھا اس وقت سے سکول کا نام و نشان نہیں ہے ذرائع کے مطابق قلعہ دھاری مندر کیلئے کروڑوں روپے مالیت کی شہری جائیداد بھی ہندو قوم کے لوگوں نے وقف کی ہوئی تھی قیام پاکستان کے بعد ہندو قوم کے لوگوں نے انڈیا ہجرت کرلی اور بعد ازاں ایسی جائیداد متروکہ وقف املاک کے طور پر پہلے حکومت پاکستان کی ملکیت میں چلی گئی بعد ازاں پاکستان کے اپنے اپنے صوبوں کے نام پر ریونیو ریکارڈ جمعبندی میں خانہ ملکیت میں چلی گئی مگر قلعہ دھاری مندر اور ساون شاہ مندر بوہڑ گیٹ بہاولپور کی مجموعی طور پر اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین بہاولپور کے معروف نوسر باز طاقتور خاندان نے فراڈ بد نیتی اور جعل سازی سے قیام پاکستان کے کئی سال بعد ہندوستان ہجرت کرنے والے ہندوؤں سے خرید شدہ ظاہر کردی حالانکہ 1947 میں انڈیا جانے والے ہندوؤں کی پاکستان میں چھوٹی گئی جائیداد کسی طور بھی انکی ملکیت نہ رہی تھی اسی طرح جو لوگ انڈیا سے پاکستان ہجرت کرکے آئے انکی اندیا میں چھوڑی گئی جائیداد پر قانونی طور پر انڈیا میں ملکیت کا کوئی تصور نہیں ہے ایسے مہاجرین کلیم کے تابع کنفرمیشن کلیم کے بعد رقبہ حاصل کرنے کے حقدار قرار دیئے گئے پاکستان بھر میں بہاولپور ڈویژن بہاولپور وہ واحد سرزمین ہے جہاں مہاجرین کے جعلی کلیم ڈبل ٹرپل الاٹمنٹس کروائی گئیں اور چند نوسر باز خاندانوں نے کھربوں روپے کی سرکاری زمین ہڑپ کی ہوئی ہے اور متروکہ وقف املاک والی جائیداد پر ہاؤسنگ سکیم ٹاؤن پلازے شاپنگ مال شادی ہال تعمیر کروائے گئے کوئی پوچھنے والا نہیں اہم انکشافات متوقع ہیں۔







