10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

سول ملٹری ٹرائل کیس: غیر متعلقہ شخص پر فوجی قوانین کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟ آئینی بینچ کا سوال

بھارتی اقدام پر عالمی عدالت انصاف روانگی منسوخ، اٹارنی جنرل پاکستان کا بیان

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کی حالیہ کارروائیوں نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے اور آج عالمی عدالت انصاف کے لیے روانگی کا منصوبہ بھی منسوخ کرنا پڑا۔
فوجی عدالتوں میں سویلینز کے مقدمات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ فوجی ٹرائل کا سامنا کرنے والے افراد کو اپیل کا حق دینے کا مسئلہ حکومتی پالیسی کا معاملہ ہے، اور اس پر حتمی موقف حکومت سے ہدایات لینے کے بعد ہی پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر آئینی بینچ کے رکن جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ نے اگر کوئی قانون سازی کرنی ہے تو وہ ان کا اختیار ہے، عدالت کا دائرہ اختیار صرف زیر سماعت کیس تک محدود ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ دلائل مکمل کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ 45 منٹ میں اپنے دلائل مکمل کر لیں گے۔
عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے کیس کی مزید کارروائی کے لیے 5 مئی کی تاریخ مقرر کردی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں